(1) میں اور میرے نبی ص/ کالم۔ سچ تو یہ ہے

(1)  میں اور میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم

میلاد کا مہینہ آن پہنچا ۔ہم سب کوایک بار پھر سے یہ یاد دلانے کہ ایک مسلمان کی حیثیت سے ہم اپنے آپ کو کردارکےایک ایسے آئینے میں دیکھ کر اپنا جائزہ لیں کہ ہم سب ایمان کی کس سیڑھی پر کھڑے ہیں آیا ہم ابھی اسی وقت ربِ کعبہ کے حضور حاضری کے لیۓ تیار ہیں۔ ابھی اگر فرشتةاجل ہمارے سامنے آموجود ہوا تو کیا ہم اس کے ساتھ جانے کے لیۓ بے فکری سے تیار ہیں؟کون ہے وہ آئینہ ؟حضرت عائشہؓ سے پوچھا گیا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کا اِخلاق کیسا ہے؟ امّاں عائشہؓ فرماتی ہیں کہ کیا تم نے قرآن نہیں پڑھا ؟جو قرآن میں لکھا ہے وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خُلق ہےاور جو حضور کا خُلق ہے وہ ہی قرآن میں لکھا ہے ۔ سبحان اللہ کیا ہی ذات ہوگی نہ وہ جس کے لیئے ہر رشتے نے، ہر تعلق نے بہترین گواہی دی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹے تھے تو بہترین اور انمول، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھتیجتے تھے تو بیمثال، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم امّاں حلیمہ کی گود کے پالے تھے تو باکمال  آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بابا تھے بیٹیوں کے تو بےمثال ۔کس کس حیثیت  کا ذکر کیا جاۓ۔ اس زمانے میں جب بیٹی کے دنیا میں آتے ہی اس کی پہلی آواز کے ساتھ ہی اسے زندہ درگور کر دیا جاتا تھا اس وقت اور زمانے میں میرے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیٹی کو سینے سے لگایا نہ صرف خود بلکہ ہر ایک کو فرمان دیا کہ بیٹی اللہ کی رحمت ہے۔ جس نے ایک بیٹی کو پال پوس کر بڑا کیا اور احسن طریقے سے اس کی زمّہ داریوں کو ادا کیا اس کی بخشش کا سامان ہو گی وہ بیٹی ۔کہیں فرمایا جس نے دو بیٹیوں کی پرورش کی وہ جنت میں دو انگلیوں کی مانند میرے ساتھ ہو گا۔ جس نے اس سے زیادہ کی پرورش کی وہ جنت میں جس دروازے سے چاہے گا داخل ہو جاۓ گا۔کیا کیا کہوں ؟ میرے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیٹی کی آمد پر اپنی چادر اس زمانے میں اس کے لیئے بچھائی، جس زمانے میں ایک شخص خود آکر اقرار کرتا ہے کہ یا نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں سفر پر جا رہا تھا اور میری بیوی امید سے تھی میں نے اپنی بیوی کو وقتِ رخصت ہدایت کی کہ بیٹا ہوا تو اس کی پرورش کرنا اور بیٹی ہوئی تو اسے درگور کر دینا۔ یا نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں کچھ سال بعد پلٹ کر آیا تو اپنے گھر کے پاس ایک معصوم بچی کو کھیلتے ہوۓ دیکھا وہ مجھ سے لپٹی میں نے اسے پیار کیا جب بیوی سے پوچھا کہ یہ بچی کس کی ہے تو اس نے کہا یہ تمہاری بیٹی ہے تو میں بھڑک اٹھا کہ تو نے بیٹی کو جنا تو اسے مار کیوں نہ ڈالا؟ اسے پالا کیوں؟ تو اس نے کہا میری ممتا نے مجھے ایسا کرنے سے روک دیا۔ یہ سنتے ہی میں نے نہ بیوی کی آہ وبکا کو دیکھا نہ بچی کی معصوم صورت کو بس اس بچی کو لیا اور اس کی قبر کھودنی شروع کر دی وہ بچی اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے میرا پسینہ پونچھتی جاتی تھی پوچھتی تھی کہ بابا تم تھک تو نہیں گئے اور میں بےحسی کے ساتھ اپنا کام کرتا رہاقبر کھود کر میں نے اسے اسمیں ڈال کر مٹی بھرنی شروع کر دی تو وہ تڑپ تڑپ کر روتی رہی۔ بابا مجھے کیوں مار رہے ہو؟ بابا مجھے مت مارو اور میں نےاس کی ایک نہ سنی اور اسے دفن کر دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ کہہ کر اس نے سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہے میرے سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اتنا روۓ کہ آپکی داڑھی مبارک تک بھیگ چکی تھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کاش میں تیرا سر قلم کر دیتا مگر میں رحمت بنا کر بھیجا گیا ہوں اس لیئے ایسا نہیں کروں گا۔یاخدا کہاں ہیں میرے سرکارصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس ادا کو سنت سمجھ کر بیٹیوں کی توقیر کرنے والے؟کہ آج بھی بیٹیاں بڑی بے توقیر اور بڑی بے آبرو ہیں آقاصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔ میں آپ کو کہاں سے ان لوگوں کے دلوں میں نقش کر دوں؟ جہاں ہر روز بیٹیوں کی عصمتیں لٹ رہی ہیں۔ ۔اوروں ہی کے کیا اب تو اپنے محرم بھی اس گناہ میں دھنستے چلے جارہے ہیں۔ اب کیا گود، کیا گھر ، کیا قبر ۔کوئی جگہ بھی ہمیں امان نہیں دیتی ۔ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔یہ لوگ بہت ظالم ہیں۔ ہمیں ظلم کے بعد تڑپنے بھی نہیں دیتے ۔ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا کروں ؟جو تڑپتے ہیں انہیں مذید بے عزت کرنے کے لیئے کمر باندھ لیتے ہیں یہ لوگ۔آپ نے جو سبق ہمیں بھوکا رہ کر پتھر کھا کر اپنے پیاروں کے قاتلوں کو معاف کر کے دیا وہ سب ہم نے بھلادیۓ۔ یاد رکھا تو بس اتنا اسلام جو ہمارے مطلب کے کاموں میں ہمارے لیئے حربے کے طور پر استعمال ہو سکے۔ یا د ہیں تو چار شادیاں۔ یاد ہے تو منہ پر داڑھی اور اس داڑھی کے پیچھے چھپ کر اپنے کیئے ہر گناہ کو پردہ پوش کرنا ۔اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے حلیئے کو اپنانے سے پہلے اعمال کو اپنانے والے کہاں سے لاؤں یا نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کے نام پر آپ ہی کی سنت کا مذاق اڑانے والوں کو کیسے احساس دلاؤں کہ محبوب کی اداؤں کو اپنا کر محبوب کی محبت کی سیڑھی پر پہلا قدم رکھا جاتا ہے۔ حلیہ اپنا کر ایک ہی چھلانگ میں محبت کی آخری سیڑھی پر نہیں پہنچا جاتا ۔ اس پہلی اور آخری سیڑھی کے بیچ بہت سے مقام سر کرنا ہوتے ہیں۔ تب محبوب کی قدم بوسی نصیب ہوتی ہے ۔ یوں ہی تو نہیں کہتے ہیں کہ”یہ عشق نہیں آساں اتنا تو سمجھ لیجئےاِک آگ کادریا ہےاور ڈوب کےجانا ہے،،      میں تو وہ ہوں جو دیوانوں کی طرح ہوا بن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی  زلفوں کو چھو جانا چاہتی ہوں اور گرد بن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدموں سے لپٹ جانا چاہتی ہوں ۔سایہ بن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے پیچھے چلنا چاہتی ہوں۔ یہ دنیا مجھے تڑپانا چاہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کملی میں چھپ جانا چاہتی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے سنیۓ۔ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں آپ کو بہت کچھ سنانا چاہتی ہوں۔ جو مجھ سے میرے باپ نے نہیں سنا ۔جو مجھ سے میرے بھائی نے نہ سنا۔ جو مجھ سے میرے بیٹے نے نہ سنا۔ جو مجھ سے میرے شوہر نے نہ سنا۔ وہ سب میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنانا چاہتی ہوں ۔آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ ہی تو سنتے ہیں ہم کہیں پر ہوں ۔اللہ کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی تو سنتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی تو مدد کو پہنچتے ہیں اللہ کے بعد سب سے پہلے۔ مجھے پکارنے کا فن عطا فرما دیجیئے  کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے باتیں کرنا چاہتی ہوں ۔کبھی رو کر ، کبھی رلا کر آپ کی محفلیں سجانا چاہتی ہوں ۔اس محفل میں ہر ایک کی تواضح کرنا چاہتی ہوں۔ مجھے اور مجھ جیسے دیوانوں کی توفیق کے لیئے اللہ سے التجا کیجیئے کیوں کہ

“محبوب کی محفل کو محبوب سجاتے ہیں

آتے ہیں وہ ہی جن کو سرکاربلاتے ہیں ”                   ●●●       

   تحریر:ممتازملک    

   مجموعہ مضامین:     

       سچ تو یہ ہے 

          اشاعت:2016ء        

       ●●●                                        

100% LikesVS
0% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں