(7) زبان اور بیان/کالم۔ سچ تو یہ ہے

  جب انسان کے پاس سامنے والے کی عمر , مقام, مرتبے, موقع اور جنس کے حساب سے کہنے کو مناسب الفاظ نہ ہوں تو انہیں جان لینا چاہئے کہ اگر وہ بولتے ہوئے خود کو اچھے لگتے ہیں تو نہ بولنے پر سب کو بہہہہہہہہہت اچھے لگتے ہیں.  یہ ہمارا ذاتی خیال ہے اور آپ کو اس سے اختلاف کا پوووورا حق حاصل ہے. ویسے بھی کہتے ہیں کہ بیشک زبان میں ہڈی نہیں ہوتی لیکن یہ بڑوں بڑوں کی ہڈیاں تڑوا دیتی ہے. کہنے کو زبان منہ میں یہ چهوٹا سا گوشت کا لوتهڑا ہے لیکن اپنی زرا سی لغزش پر حضرت انسان کوجنت اور جہنم کا چکر بهی لگوا سکتی ہے. عزت کے مرتبے بهی دلواتی ہے اور پھانسی کے پھندے میں بھی فٹ کرواتی ہے. کتنی ہی اچھی صورت ہو اور کتنا ہی مہنگا سوٹ کسی کے بدن پر سجا دیا جائےلیکن اس کی انسانی حیثیت اور قیمت اس کا منہ کھلتے ہی سامنے آ جائے گی ۔ اور کئی بار پھٹے پرانے ملبوس میں موجود کوئی بدصورت انسان جسے شاید کوئی دیکھ کر پاس بٹھانے پر بھی تیار نہ ہو، لیکن جب وہ بات کرنا شروع کرتا ہے تو انسان اس کے الفاظ و انداز کی ادائیگی کے سحر میں گرفتار ہوتا چلا جاتا ہے ۔ اس کا کرداردیکھتے ہی انسان کی نظریں اور سر عقیدت سے اس کے سامنے جُھکتا چلا جاتا ہے ۔ یہ ہی زبان اسے عظمت کی بلندیوں تک لیجاتی ہے، لیکن ہاں اس زبان کی تاثیر بھی بے شک اس کے کردار میں چُھپی ہوئی ہے ۔ بے کردار آدمی کی زبان بھی اس کی طرح بے اثر ہو جاتی ہے ۔ اس کی مثال اس صدی کے علماء کو ہی دیکھ لیں ۔ کتنا کلیجہ باہر نکال نکال کر چِلا چِلا کر لوگوں کو آیات اور احادیث سنا رہے ہوتے ہیں ۔ لیکن کیوں کہ انکا اپنا کردار صاف نہیں ہوتا تو بدلے میں انکی زبان اور الفاظ سے بھی تاثیر اللہ پاک کی جانب سے چھین لی جاتی ہے۔ ویسے تو دل کے بارے میں بھی یہی فرمایا جاتا ہے کہ یہ ٹھیک ہے تو سب ٹھیک ہے مگر کیا کریں کہ کمبخت دل بهی انسان کو پلٹیاں دینے سے باز نہیں آتا . نظر کو ساتھ ملاتا ہے اور دوسروں کے ہر جذبے ، ہر خواہش ، ہرنوالے پر نظر رکھتا ہے. اور خود لوگوں کے شِپ کے شِپ ڈکار چکا ہو، وہ دیکھنے کو تیار نہیں. اسی دل کے مرض نے ہی تو حرام اور گناہ میں مزے کی نوید سنائی. دماغ میں دل کے ہی مہمان بِٹھا لئے جاتے ہیں اور اس وجود کا بزرگ سا مالک ضمیر اپنی نحیف آواز میں انہیں خبردار کرتا رہتا ہے لیکن کیا فائدہ ضمیر بابا ! اگر خطرے اور امتحان کی گھڑی میں لمبی تان کر نہ سوتے تو حالات مختلف نہ ہوتے کیا؟         اب جب زبان، دل ،دماغ اور نظر آپ کے ہاتھ سے نکل ہی چکے ہیں تو آپ بس دعائے خیر ہی کریں کیونکہ دعائے مغفرت تو بڑی دھوم دھام سے ہو گی .

●●●

تحریر: ممتازملک ۔پیرس

مجموعہ مضامین: سچ تو یہ ہے

 اشاعت: 2016ء

●●●

100% LikesVS
0% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں