(10) خدائی مہمان/کالم۔ سچ تو یہ ہے

(10) خدائی مہمان

تحریر :ممتازملک.پیرس

کتنی عجیب سی بات ہے کہ وہ لوگ جو اپنے گھروں کے نرم بستر ، اپنی ماں کی گرم آغوش اور اپنے گھر کا لذیذ اور تازہ کھانا چھوڑ کر پانی کی ایک چھاگل اور جیب میں گڑ کی ڈلی اور چنے رکھے ساری ساری رات خطرناک ترین محاذوں پر آنکھ چھپکے بنا گزار دیتے ہیں کہ ہماری قوم سکون کی نیند سو سکے ۔ اور پھر اسی قوم کے چند کم ظرف لوگ اٹھ کر بڑے ڈھیلی زبان سے انہیں یہ انعامی جملے سوغات کریں کہ کیا ہوا یہ فوجی ہی تو ہے اور فوج ہماری نوکر ہے ۔ اسے ہم تنخواہ دیتے ہیں ۔ تو اس کا ایک جواب تو یہ ہو سکتا ہے کہ آپ فوج سے باہر کیوں ہیں؟ کیونکہ ان کا کام کوئی مشن نہیں ، محض نوکری ہے تو یا تو یہ نوکری کرنے والے بے وقوف لوگ ہیں یا پھر آپ  کو بھی  ان جیسی ایک آسان نوکری ضرور کرنی چاہیئے ۔ ایک چیونٹی بھی جہاں اپنے موسموں کے حساب سے اپنی رہائش اور خوراک کا محفوظ انتظام کرتی ہے تو وہاں کبھی ریت کے ٹیلوں پر، کبھی چٹیل میدانوں پر ، کبھی برف پوش چوٹیوں پر، یہ جانتے بوجھتے ہوئے کہ ان کی دوبارہ اپنے گھر والوں سے جیتے جی ملاقات ہو سکے یا نہ ہو سکے ، جو ہر بار اپنے گھروالوں سے آخری ملاقات کر کے ہی ہنستے مسکراتے  اپنے محاذوں پر روانہ ہو جاتے ہیں۔ کون ہیں یہ لوگ؟ 
یہ وہی تو نہیں جنہیں اقبال نے کہا کہ  یہ غازی یہ تیرے پُراسرار بندے جنہیں تو نے بخشا ہے ذوق خدائی دو نِیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریاسمٹ کر پہاڑ انکی ہیبت سے رائیدوعالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو عجب چیز ہے لذت آشنائی 
یہ زمین پر لوگوں کی جانوں کی حفاظت سے عشق کرنے والے نایاب لوگ جو دکانوں پر نہیں بِکتے  ۔ جو دعاؤں سے مخصوص ماؤں کے ہاں جنم لیتے ہیں ۔ دنیا میں اپنی ڈیوٹی نبھاتے ہیں اور غازی یا شہادت کا تاج سروں پر سجائے رخصت ہو جاتے ہیں ۔ کہیں بوڑھی ماں رہ جاتی ہے ، کہیں معصوم بچے ان کی راہ دیکھتے رہ جاتے ہیں ، کہیں دلہنیں ہاتھوں پہ رچی مہندی میں انہیں کھوجتی رہ جاتی ہیں ، کہیں بہنیں اپنی ڈولی کو کندھا دینے کی آس میں دروازے پرنظر گاڑے منتظر رہ جاتی ہیں ، تو کہیں باپ اپنی کمر کی ہڈی ٹوٹنے کی درد لیئے لاٹھی کی تلاش میں گرا رہ جاتا ہے ، لیکن یہ شہزادے اپنی الگ ہی شان لیئے بے پروائی کا سہرا سر پر سجائے مسکراتے ہوئے جاں سے گزر جاتے ہیں ۔اور اگر ہم جیسے کم ظرف لوگ انہیں یہ سنا کر اپنا سینہ پھلا لیتے ہیں کہ یہ ہمارا نوکر ہے ۔ تو لعنت ہے ایسی سوچ پر ۔ کام کا عوضانہ ضرور ہوتا ہے ، لیکن جان کا کوئی عوضانہ نہیں ہوتا ہے ۔ جو انسان اپنی جان ہتھیلی پر لیئے اسے ہماری حفاظت پر لٹا چکا ہے اس کے نام اور خاندان کے سامنے تو ہمیں نظر اٹھا تے ہوئے بھی کم از کم چار بار ضرور سوچنا چاہیئے کہ  کیا یہ اتنا آسان ہے ؟ کیا یہ میں بھی کر سکتا ہوں ؟کیا یہ بیوقوفی ہے ؟کیا میں اپنے بیٹے کی لاش یوں اسی طرح اتنے آرام سے اٹھا سکتا ہوں ؟ فوجی کبھی بھی بنایا نہیں جا سکتا۔ انسان یا تو پیدائشی ذہنی طور پر ہی فوجی ہوتا ہے یا پھر ایک عام آدمی ہوتا ہے ، کیونکہ یہ جذبہ ماں کی کوکھ سے لیئے ہی انسان اس دنیا میں آتا ہے ۔  ایسے میں یہ ہماری سوچ کی کمزوری ہے کہ کسی کی جان کی قیمت کبھی بھی محض چند ہزار ماہوار تنخواہ ہو سکتی ہے ۔ ہم اگر یہ سمجھتے ہیں کہ کہ فوجی صرف نوکری نہ ملنے کی وجہ سے فوج میں جاتا ہے تو یہ  ہماری خام خیالی بلکہ پست خیالی کا ثبوت ہے ۔ اگر ایسا ہو تا تو ہمارے نبی پاک ﷺ سرحد پر گزاری ہوئی پہرےداری کی  ایک رات کو ہزاروں راتوں کی عبادت سے بہتر  کبھی بھی  قرار نہ دیتے ۔ ہم انہیں اور کچھ نہیں دے سکتے تو نہ سہی ، لیکن کم از کم عزت تو دے ہی سکتے ہیں ۔ اور اپنی زبان کو بھی بات کرنے سے پہلے الفاظ تولنے پر مجبور کر سکتے ہیں کہ ہم کسی عام سے اپنے لیئے جینے والے انسان  کے لیئے بات نہیں کر رہے بلکہ ہم بات کر رہے ہیں خدائی مہمانوں کی ۔ جو ہمارے بیچ ہماری ہی حفاظت کے لیئے اللہ کے ہاں سے بھیجے جاتے ہیں ۔ یاد رکھیں کہ تنخواہوں پر جسم تو مل سکتے ہیں ۔ لیکن جذبے نہیں کیونکہ جذبوں کی کوئی قیمت  نہیں ہوتی۔               

       ●●●

تحریر: ممتازملک 

مجموعہ مضامین:سچ تو یہ ہے 

اشاعت :2016ء 

●●●

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں