(13) سبن محرم میرے آج زرا/ کالم ۔ سچ تو یہ ہے

(13) سن محرم میرے آج زرا

تحریر: ممتازملک.پیرس

اللہ پاک کی جانب سے قائم حدود ہی میں ہماری سلامتی اور بقاء ہے ۔ محرم اور نا محرم کے فرق کو مذاق نہیں بنانا چاہیئے۔ آج ماڈرن ازم کے نام پر ہم لوگوں نے اپنی عزتوں کو خود ہی داؤ پر لگا دیا ہے ۔ آج کی عورت کو اگر یہ بات سمجھ میں آ جائے کہ آزادی اور کامیابی کا جھوٹا خواب دکھانے والے، انکی آنکھوں کی وہ بینائی بھی چھین لیتے ہیں جو انہیں اندھیرے اجالے کا فرق بتاتی ہے ۔ تو شاید وہ اپنے آپ کو بچانے کی کوشش بھی کریں لیکن جن کے دلوں پہ اللہ نے قفل لگا دیا ہو، انہیں دن کا سورج بھی کسی اندھیرے سے نہیں نکال سکتا ۔ بدقسمتی سے ہم لوگوں نے اپنے ہی گھروں کو گناہوں کی دعوت گاہ بنا دیا ہے ۔ عام سی بات ہے گھر میں دو بیٹے ہیں ایک کی بیوی لائی جاتی ہے ۔ دوسرے بیٹے کو یعنی دیور صاحب کو بھابی سے بات کرنے اور اس کے پردے کا خیال رکھنے کی صلاح دینے والا لڑکے کی ماں کو بہت برا لگے گا ارے بھائی ہے اس کا ۔ اب ان خاتون کو کون عقل دے کہ جو بھائی اللہ نے اس کے لیئے نہیں بنایا وہ ان کے کہنے پر اسکا بھائی کیسے ہو گیا ۔ یہ فیصلہ خدا کریگا کہ کون کسکا بھائی ہے اور کون کس کا باپ ، یا ہمارے ابّا جی اور امّاں جی نیا قانون بنائیں گے ۔ اس پر دیور صاحب جتنی تانک جھانک حسب توفیق ہو سکے بھاوج سے ضرور کرینگے ۔ رہی سہی کسر گھر میں آنے والے نندوئی، بہنوئی اور دوسرے مرد رشتہ دار پوری کر دینگے۔ لڑکی اگر تھوڑی احتیاط برتنے کی کوشش کرے اور پردہ رکھنا بھی چاہے تو جھٹ سے اس پر مغرور ہونے کا لیبل لگا دیا جائے گا کہ لو جی بڑا نخرہ ہے۔ ہمیں تو اپنے لائیک ہی نہیں سمجھتی۔ جان بوجھ کراسے مجبور کیا جائے گا کہ جاؤ اس کے ساتھ چلی جاؤ۔ اس کے ساتھ آ جاؤ ۔اگر گھر میں کوئی نہیں ہے تو بھی لڑکی کسی کے لیئے گھر کا دروازہ نہ کھولے تو بھی اسے اس کی احتیاط نہیں بلکہ پورا خاندان اپنی بے عزتی کا نام دے دیگا۔ اگر گھر میں بہو اپنے کمرے کو اندر سے بند کر کے بیٹھے کہ گھر میں مرد رشتہ دار ہیں کوئی بے دھڑک نہ چلا آئے تو یہ بھی اسے بہو کا عیب ہی گنا جائے گا جبکہ یہ بہت ضروری ہے کہ گھر میں بھرے پُرے سسرال میں لڑکی اپنے آپ کو محفوظ کرنا چاہے تو اپنے کمرے میں کسی کام سے یا آرام کی غرض سے جائے تو کمرہ اندر سے بند رکھے ۔ لیکن کہاں جناب ایسا کرنے پر لڑکے کے گھر والے واویلا نہیں مچا دیں گے ۔ انہیں کسی لڑکی کی عزت سے زیادہ اپنے جعلی رسوم عزیز ہیں جس میں گھر کی بہو ایک کل وقتی ملازم ہے۔ اسکی نہ تو کوئی حرمت ہے نہ ہی کوئی عزت ۔ جبکہ اگر وہ اپنے لیئے الگ گھر کا مطالبہ کرے تو بھی اسے اس کا ناجائز مطالبہ کہا جائیگا ۔ جبکہ اسلام میں سختی سے اس بات کی تاکید کی گئی ہے ۔ کہ لڑکی کو اس کا الگ پرائیویٹ کمرہ یا گھر لے کر دینا اسکے شوہر کی ذمہ داری ہے ۔ کیونکہ لڑکی کا اس پورے سسرال میں اپنے شوہر کے سوا کوئی محرم نہیں ہوتا ۔ اسے اس گھر کے تمام مردوں سے احتیاط اور پردے کے دائرے میں رابطہ رکھنا چاہیئے ۔ دیور، جیٹھ، سسر، نندوئی ، بہنوئی ، کزنز کسی کو بھی اس کی عمر کا یا رشتے کا ناجائز فائدہ نہیں اٹھانے دینا چاہیئے ۔ ہمارے ہاں زیادہ تر اخلاقی جرائم ہم سب کے ہی گھروں میں پل رہے ہوتے ہیں اور ہم باہر والوں کو ظالم سمجھ رہے ہوتے ہیں ۔  ہمارے ہاں تو ہندوؤں اور سکھوں کے بے شرمانا محاوروں کو بھی بڑی بے حیائی سے منہ پھاڑ کر استعمال کیا جاتا ہے جیسے  “سال میں ایک مہینہ جیٹھ کا بھی آتا ہے بھابی “، “سالی آدھی گھر والی” وغیرہ وغیرہ کوئی ان بے شرموں سے یہ پوچھے کہ کیا آپ کی اپنی بیٹی کے لیئے بھی آپ کے ذہن میں یہ ہی گندے محاورے آتے ہیں ؟ وہ بھی کسی کی بھابی اور سالی ہوتی ہے تو حساب برابر کیجیئے ۔ گھر سے نکلیں تو میاں نے کبھی تعریف کے دو بول جن خواتین کو نہ بولیں ہوں وہ بیچاری ترسی ہوئی خواتین باریک لبادوں میں نت نئے انداز میں زلفیں جھٹکتی، لیپا پوتی کیئے کسی کو بھائی اور کسی کو سر کہتی اپنے لیئے ہر نامحرم کو زبردستی اپنا محرم ثابت کرنے کی ناکام کوشش کر رہی ہوتی ہیں ۔ انہیں یہ نہیں معلوم ہوتا کہ جو للچائے بھنورے اور پروانے  انہیں ان کی موجودگی میں  باجی باجی ، میم میم کہہ رہے ہوتے ہیں ان کے منظر سے ہٹنے کے بعد ان کے بارے میں کس قدر غلیظ گفتگو کر رہے ہوتے ہیں ۔ ہمیں تو اکثر ایسے مواقع پر کئی لوگوں کے منہ سے نکلی یہ بات سچ لگتی ہے کہ جی ایسی خواتین کی عقل گھٹنوں میں ہوتی ہے ۔ کیا ایسی خواتین کو خود نہیں معلوم کہ کون انہیں کس نظر سے دیکھ رہا ہے ۔ عورت تو کسی خفیہ آنکھ تک کو اپنے ارد گرد محسوس کرنے کی طاقت رکھتی ہے ۔ اس کی حس اس قدر تیز ہوتی ہے کہ کسی بھی مرد کی بات کرنے کا انداز اسے اس کے چھپے ہوئے مفہوم سے آشنا کر دیتا ہے ۔ اس کے باوجود اگر ایسی خواتین ایسا کرتی ہیں تو انہیں اس کی وجوہات جاننا چاہیئے، اور اپنے شوہر کو احساس دلائیں کہ میاں بیوی کو بھی ایک دوسرےے سے تعریفی جملوں کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اور ایسا کرنا آپ کو نفسیاتی طور پر طاقت عطا کرتا ہے ۔ ایک شوہر اپنی بیوی کی جسمانی حفاظت ہی نہیں بلکہ اس کے جذباتی ضروریات کو بھی پورا کرنے کا ذمّہ دار ہوتا ہے ۔ یہ ہی بات آپ کی گھریلو اکائی کو مضبوط کرتی ہے اور آپ کی بیوی کو کہیں بھی بھٹکنے سے بچاتی ہے ۔ نہ صرف گھر سے باہر بلکہ سب سے پہلے اپنے گھر کے اندر بھی محرم اور نا محرم کی احتیاط کا اہتمام کریں ۔  اپنی ماؤں بہنوں کو اس بات کا احساس کرائیں کہ آپ کی بیوی صرف آپ کی بیوی ہے کسی اور کے لیئے مٹھائی کی پلیٹ نہیں ۔ اس معاملے میں آپ کی ماں آپ کو خدا کی دی ہوئی سزا سے نہیں بچا سکیں گی ۔ ساسوں کو بھی اس بات کی حیا کرنی چاہیئے کہ بہو کے سامنے دیور جیٹھ کو زیادہ بے تکلف ہونے پر مجبور نہ کریں ۔ ورنہ خدا کے ہاں اس لڑکی کی حفاظت کی پوچھ انہیں سے کی جائے گی ۔ یاد رکھیں اللہ کی حدود کو توڑنے والا اس جہاں میں وقتی مزے اور فائدے تو لے لے گا لیکن جہاں اسے ہمشہ کے لیئے جانا اور رہنا ہے اس جگہ یہ گناہگار کرنے والے رشتے اور لوگ اسے بچائیں گے کیا پہچانیں گے بھی نہیں ۔ 

●●●

تحریر: ممتازملک 

مجموعہ مضامین: سچ تو یہ ہے

اشاعت:2016ء 

●●●

100% LikesVS
0% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں