(17) سوری بابا/ کالم۔ سچ تو یہ ہے

         (17) سوری بابا      

     تحریر:ممتازملک۔ پیرس

کیا بابا ئے قوم کا یوم پیدائش منانے کا مقصد کیک کاٹنا ، ہلہ گلہ کرنا اور چھٹی منانا ہی ہے ؟ کیا پاکستان انہیں باتوں کے لیئے ہزاروں عزتیں قربان کر کر حاصل کیا گیا تھا ؟ کیا روح قائد آج کے تماشے دیکھ کر نہال
 ہوئی جارہی ہے ؟ کیا آج ہم اس حال میں ہیں کہ اپنے آپ کو آزادی کے شہداء کے سامنے کٹہرے میں پیش کر سکیں ؟ تو پھر کیسا یوم پیدائش ؟ جس بابا کے گھر کو ہم نے آگ لگا دی اس سال اس کی سالگرہ منانے سے اچھا نہیں کہ ہم شرم سے گڑھ جائیں ۔ سوری بابا میں آپ کی سالگرہ نہیں منا رہی کیوں کہ میں خود کو اس قابل ہی نہیں سمجھتی کہ آپ کے سامنے کیا آپ کی تصویر سے بھی نظر ملا سکوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  اسی لیئے آج میں کوئی کیک نہیں کاٹ رہی، کوئی تقریب نہیں اٹینڈ کر رہی ۔ میں آج صرف اور صرف اپنا احتساب کر رہی ہوں ۔ کیا سوچ کر آزادی کے
 رستے میں شہیدوں نے اپنے لہو کے 
دیئے روشن کیئے تھے اور کیا سوچ کر ہم نے ان چراغوں پر بڑی ہی بے رحمی سے کیچڑ انڈیل دی ۔ اپنے کردار کی کیچڑ،₩ اپنے گفتار کی کیچڑ ، خودی کو بلند کرنے کا دعوی کرتے ہیں اور پہلے سے بڑا کشکول بنا لیتے ہیں ۔ یہ کاسئہ گدائی ہماری پہچان بن گیا ہے مگر ہم ہیں کہ اکڑ کر چلنے سے باز ہی نہیں آتے ۔  دنیا 
میں بھیک مانگنے جاتے ہیں تو شان 
وشوکت میں برابری بھیک دینے والے کی کرنے لگتے ہیں ۔  سچ اس لیئے نہیں بولتے کہ ہمارے وقتی مفادات کو کوئی زک نہ پہنچ جائے ۔ باتیں ایسی توڑ موڑ کر کرتے ہیں کہ جب جس کے سامنے جائیں اسی کے گن گانے میں آسانی ہو  آخر ڈپلو میسی بھی کوئی چیز ہوتی ہے ۔ ہم دوسروں کی آگ اپنے گھر میں جلانے کے اتنے عادی ہوچکے ہیں  کہ اپنے مسائل اور اپنے غموں اور تکلیفوں کے ازالے کے لیئے ہمارے پاس وقت ہی نہیں ہے ۔ بڑی باتیں کرتے ہیں ہم پاکستانیت کی۔ لیکن عمل   کرنے کا وقت آتا ہے  تو ”اندھا بانٹے   ریوڑیاں اپنے اپنے کو ”کے مصداق یاد رہتا ہے ہی پاکستانیت ۔ میرٹ کا جنازہ تو ہم نے ہر ہر فیلڈ میں خوب دھوم دھام سے نکالا ہے ۔ تنخواہ تو ہم 30 دن کی مانگنا حق  سمجھتے  ہیں۔ لیکن دن کے 8 میں سے 6 گھنٹےاپنے گھروں میں 
بیڈ پر اینٹھتے یا نماز کے بہانے غائب ہو کر یا پھر کھانے چاٹنے میں نکال دیتے ہیں ۔ کوئی کسی کام سے آیا ہو یا بل جمع کرانے والا ، یا دفتری کام سے آیا ہوا سائل، دھکے کھا رہا ہے تو کھاتا رہے پہلے میری مٹھی گرم کرے ۔یہ تو میری مہربانی ہے کہ سائل کو میری صورت دیکھنا نصیب ہو گئی ۔ لال بتی پر رک جانا بھی میری توہین ہے ۔ کسی غریب کی مزدوری مارنا میرا کمال ہے ۔ مذہب کے نام پر دوسروں  کے عقائد پر حملہ کرنا میری مسلمانی ہے ۔ عورت کو پیٹنا ہماری مردانگی ہے ، معصوم بچوں کے جسموں کو نوچنا ہمارا مشغلہ ہے۔  قانون کی دھجیاں بکھیرنا ہمارا شوق ۔ ملاوٹ کرنا مجھے شرم نہیں دلاتا ۔ مہنگا بیچنا مجھے معیوب ہی نہیں لگتا ۔ بیواؤں اور یتیموں کا مال کھا کے بھی ہم چین سے سو جاتے ہیں ۔ دوسروں کی عزتیں بیچ کر بھی ہماری آنکھ نہیں جھکتی ۔ لمبی لمبی داڑھیاں چہرے پہ سجا کر قرآن پر ہاتھ رکھ کر جھوٹی گواہیاں دیتے ہوئے بھی ہمیں حیا نہیں آتی ۔ بہت کچھ ہے بابا  ۔ کیا کیا سناؤں ۔ میں جانتی ہوں جس صبح کی نوید  آپ نے دی تھی یہ وہ سحر بلکل نہیں ہے ۔ میں انتظار کروں گی اس صبح نو کا کہ جہاں انصاف کا بول بالا ہو گا ، تعلیم ہر ایک کا حق ہو گی ، سب کی عزت سانجھی ہو گی ،  سب کے عقیدے اس کے اپنے ہوں گے ۔ بات کرتے ہوئے سب خدا کا خوف کریں گے نا کہ اپنے مفادات کا تحفظ ۔ جہاں میرٹ کا قتل عام بند کیا جائے گا اسی امید پر میں آپ کی سالگرہ کا کیک ضرور کاٹوں گی شاید اگلے سال ۔ ۔ ۔

●●●

تحریر: ممتازملک.پیرس 

مجموعہ مضامین: سچ تو یہ ہے

اشاعت: 2016ء

●●●

100% LikesVS
0% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں