(19) بچوں میں تفریق/کالم۔سچ تو یہ ہے

(19) بچوں میں تفریق

تحریر: ممتازملک.پیرس

 ماں باپ کی مثال بچوں کے لیئے ایک سائبان کی سی ہوتی ہے۔ ایک پیڑ کی سی ہوتی ہے جو اپنی اولاد کے لیئے خود تو تمام عمر مشقت کی دھوپ میں جلتے ہیں لیکن اپنی اولاد کے لیئے پھلدار اور سایہ دار درخت ہوتے ہیں ۔ ماں باپ کی قدر وہی لوگ جانتے ہیں جنہوں نے انہیں کھو دیا ہو یا پھر ان کے ساتھ زندگی گزارنے کا جنہیں زیادہ موقع نہ ملا ہو ۔ ماں باپ اپنے بچوں کے لیئے اپنی زندگی کا ہر عیش و آرام تیاگ دیتے ہیں۔ اپنی خوشیوں کو بھینٹ چڑھا دیتے ہیں تا کہ ان کے اولاد کی خواہشات پوری ہو سکیں ۔ ان سب قربانیوں کے بعد بھی ایسی کیا وجوہات ہوتی ہیں کہ بہن بھائیوں میں اکثر وہ محبت اور رسپیکٹ (عزت) پیدا نہیں ہو پاتی جس کی ضرورت ہوتی ہے ، عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ ماں اور باپ اپنے سب سے بڑے یا چھوٹے یا کسی اکلوتے بیٹے یا بیٹی کو اپنا خاص لاڈلا بنا لیتے ہیں ۔ ہر دوسرے بچے کا حق اور محبت بھی اسی ایک مخصوص بچے کے لیئے مخصوص کر دیا جاتا ہے ، کھانا ہے تو سب سے اچھا حصہ اور سب سے پہلے اسی کو ملے گا ، کپڑا سب کے لیئے تو معمولی یا کم قیمت لیکن کسی ایک بچے لکے لیئے خاص اور مہنگے ہوں گے ، کسی کو تو سکول کے کسی پروگرام میں جانے کی اجازت ہی سرے سے نہیں ہے اور کسی کو راتوں کو بھی گھر سے باہر رہنا معاف ہے ۔ اور تو اور جیب خرچ میں بھی اکثر ہمارے گھروں میں بچوں اور لڑکوں لڑکیوں کے بیچ خاص فرق روا رکھا جاتا ہے ۔ اور تو اور نالائق لڑکے کو دھکا شاہی سے اچھے سکول اور کالج بھیجنے کی کوشش کی جائے گی چاہے وہ نہ پڑھنا چاہے یا کتنا بھی نالائق ہو، کئی کئی بار فیل ہی کیوں نہ ہوتا ہو ،  جبکہ لڑکیوں کو لائق ہونے اور سکول کالج جانے کے شوق کے باوجود، پوزیشنز لینے کے باوجود دھمکا کر گھر بٹھا لیا جاتا ہے ،کہ اس کی پڑھائی سے ہمیں کیا فائدہ ۔  اگر وہ لاڈلی ہے تو بھائیوں کا ہر حق بھی چھین کے اس کی جھولی میں ڈال دیا جائے گا ۔ جو بھی بیٹا یا بیٹی لاڈلی قرار دے دی جائے پھر اس پر سات خون معاف ہیں۔ وہ اپنی عمر کا لحاظ کیئے بنا ہر ایک پر حاکم بنا دیا جائے گا ۔ بڑے ہو جانے پر بھی اسے بہن بھائیوں کی کمائی کھانے کا حق دے دیا جاتا ہے۔ اگر بھائی کہیں باہر ہے تو اس کے سوٹ کیسز اس کی بیوی کے بجائے وہ لاڈلا یا لاڈلی کھولے گا ۔ تحفوں کی تقسیم بھی اسی کی مرضی سے ہو گی وہ کسی کو کیا دے کیا نہ دے یہ اس لاڈلی یا لاڈلے کی مرضی ہے ۔ کسی بھاوج کو بھی گھر میں رہنا ہے تو میاں یا ساس سسر کی مرضی سے نہیں بلکہ اس لاڈلے کی خوشنودی کے بعد ہی رہ سکتی ہے ورنہ گھر کا رستہ لے ۔ ماں باپ باہر رہنے والے بیٹے کا مال ایسی ہی لاڈلی یالاڈلے میں بانٹ کر اکثر اپنی قبر میں انگارے بھر لیتے ہیں ۔ کیوں کہ” حدیث   نبی پاک ﷺ کا مفہوم ہے کہ جس نے ستر سال تک تہجد گزاری کی۔ عبادات کیں ، لیکن مرتے وقت اس نے صرف غلط وصیت کر دی تو گویا اس نے اپنی قبر میں انگارے بھر لیئے ۔ ” یہ جاننے کے باوجود ہمارے ہارے ہاں کے 70٪ والدین باہر بیٹھے ہوئے بیٹوں بیٹیوں کے مال اور جائیدادوں کو اپنے کسی لاڈلے یا لاڈلی کی جھولی میں ڈال جاتے ہیں اپنا انجام سوچے بنا اور کوئی پوچھے تو کہا جاتا ہے کہ بھئی تم تو باہر ہو تمہیں کیا کمی ہے یہ تو یہاں ہے اسے زیادہ ضرورت ہے ۔ جیسے باہر بیٹھی اولاد ان کی اولاد ہی نہیں ہے یا پھر باہر انہوں نے اس اولاد کو فیکٹریاں لگوا کر دی ہوئی ہیں جو نوٹ چھاپ رہی ہیں ۔ نہ تو خاموش رہنے والی اولاد کو کوئی عزت دی جاتی ہے نہ ہی کوئی اس کے حقوق کے لیئے آواز اٹھاتا ہے وہ چاہے کسی بھی تنگی کا شکار ہو لیکن ماں باپ کی شہہ پر دوسرے بہن بھائیوں کے مال پر پلنے والا یہ لاڈلا ان کا خون چوستا ہی رہے گا ورنہ ماں باپ کی ناجائز بددعائیں لے گا ۔ اور  خاص بات یہ کہ اسی حقوق کی پامالی میں وہ اس لاڈلی اولاد کوبھی اتنا تباہ کر چکے ہوتے ہیں کہ وہ لڑکا ہے تو دو وقت کی روٹی بھی خود کمانے کے لائق نہیں رہتا اور ساری عمر خیراتی ٹوکری بن کر گزار دیتا ہے ۔ اور بیٹی ہے تو باقی سبھی بہن بھائیوں کی زندگی کو عذاب بنائے رکھے گی ۔ ۔یاد رکھیں ماں باپ کی حقوق کی تو ہم بہت بات کرتے ہیں لیکن ان ماں باپ کو بھی یہ بات بتانے کی اشد ضرورت ہے کہ اس سے پہلے ماں باپ پر اس اولاد کے حقوق ہوتے ہیں جو ان کی مرضی سے اس دنیا میں آئی ہوتی ہے ۔ پہلے آپ اولاد کا حق ایمانداری سے ادا کریں پھر آپ دیکھیئے گا کہ اولاد کیسے آپ کے حقوق ادا کرتی ہے ۔ اور اولاد کے حقوق میں سب سے پہلا حق برابری کا ہوتا ہے بیٹا ہو یا بیٹی پہلی اولاد ہو یا آخری ماں باپ کو اس بات کا کوئی حق نہیں ہے کہ وہ ان میں حق ادا کرنے کے معاملے میں کسی قسم کا بھی کوئی فرق روا رکھیں ان کو اچھی تعلیم کا ایک جیسا موقع دینا بھی ان کا فرض ہے کیوں کہ علم حاصل کرنا ہمارے ہی دین میں ہر مرد اور عورت پر لازم کیا گیا ہے ۔ انہٰں  اپنی حیثت کے مطابق ایک ہی جیسا پہنائیں، کھلائیں اورباپ کی جائیدا میں  انہیں قانونی اور شرعی مکمل حصہ دیں ۔کسی ماں باپ کو اس بات کا کہیں بھی حق حاصل نہیں ہے کہ وہ جس بچے کا بھی چاہیں اپنی مرضی سے حق مار کر کسی کی بھی جھولی میں ڈال دیں جبکہ حصے اختیار کے ساتھ دے دینے کے بعد جس کا جو جی چاہے اسے جیسے چاہے استعمال کرے ۔ بھائیوں یا بہنوں کی کمائی ہوئی جائیداد کو باپ کی نام لگانے کی غلطی مت کریں کیوں کہ اسی بات کا فائدہ اٹھا کر بہت سے بہن بھائی لٹ چکے ہیں جو بات وہ والدین کی محبت میں کر رہے ہوتے ہیں انہیں یہ ہی نادان والدین لاڈلے یا لاڈلی کے نام کرکے  اصل اولاد کو کشکول تھما کر دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں ، لہذا بچوں کے حقوق میں برابری رکھیئے اور اپنے حقوق کو بھی دین کے اور قانون کے دائرے میں استعمال کیجیئے تاکہ آپ کی دنیا بھی پرسکون  ہو اور آخرت بھی بخیر ۔ یادرکھیں جو ماں باپ اپنے دینی اور قانونی دائرے میں رہتے ہوئے اپنے بچوں کے حقوق ادا کرتے ہیں انہیں کبھی بھی اپنی اولاد سے اپنے حقوق کی ادائیگی کا رونا نہیں رونا پڑتا بلکہ انہیں ان کے حقوق بنا کہے مل جاتے ہیں ۔ اولاد کا ماں باپ پر یہ حق ہے کہ انہیں ہر چیز میں برابری کا حق دیا جائے ، ایک جیسا کھلایا پلایا جائے ایک سی آذادی دی جائے، ایک سی تعلیم کا حق دیا جائے کیوں کہ ہمارا ہی دین ہے جو حکم دیتا ہے کہ ہر عورت اور مرد تعلیم حاصل کرے ۔ اپنے بچوں کو ایک سی محبت توجہ اور پیار دینا آپ پر خدا کی جانب سے فرض کیا گیا ہے ۔ اگر آپ اللہ کا حکم پورا نہیں کر رہے تو پھر اپنے حقوق کے لیئے رونا تو آپ نے اپنے مقدر میں خود ہی لکھ لیا ہے۔ آپ اپنے گھر کی باغ کے مالی ہیں اور اچھے مالی کو یہ ذیب نہیں دیتاکہ کسی پودے کو پانی دے اور کسی کو پیاسا چھوڑ دے جسے چاہے کھاد ڈالے اور جسے چاہے بنا کھاد کے برباد کر دے۔ ایسے مالی کا باغ کبھی آباد نہیں ہوتا بلکہ ایسا مالی کبھی اچھا مالی ہو ہی نہیں سکتا اور اسے کبھی اپنے باغ کا سکھ نصیب ہی نہیں ہوتا ۔ اچھے مالی بنئیے تاکہ آپ کو اس باغ کا جوبن دیکھنا نصیب ہو ۔ اچھے والدین بنیئے تاکہ آپ کو اپنی اولاد کی تابعداری نصیب ہو  ۔                     ●●●

      تحریر: ممتازملک.پیرس 

  مجموعہ مضامین: سچ تو یہ ہے       

    اشاعت:2016ء     

  ●●●

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں