(20) بین المذاہب شادیاں/کالم۔سچ تو یہ ہے

(20) بین المذاہب شادیاں

تحریر: ممتازملک.پیرس

ایک وہ وقت تھا جب اسلام نیا نیا دنیا میں اپنی پہچان بنا رہا تھا تو صحابہ رض کی ٹولیوں کو مختلف ممالک میں دین کی ترویج و تبلیغ کے لیئے بھیجا جاتا تھا ۔ اس زمانے میں سفر کی سہولیات آج جیسی نہیں تھیں ۔ سفر تجارت پر بھی جانے والے مہینوں اور کئی بار تو سالوں بعد گھروں کو لوٹا کرتے تھے ۔ تو گویا اپنے عزیزوں سے اسے طرح مل کر نکلتے تھے جیسے آخری بار مل رہے ہوں ۔ کیوں کہ زندگی میں اب وہ دوبارہ واپس آئینگے یا نہیں۔ کوئی کٓچھ نہیں کہہ سکتا تھا ۔ اسی بنیاد پر جب دنیا میں وفود کے جانے کا سلسلہ شروع ہوا تو انہیں اس بات کی اجازت بھی نبی پاک ﷺکے زمانے ہی میں ملنے لگی کہ وہ جہاں آباد ہوں گے وہیں کے نومسلم نیک نام خاندانوں میں شادیاں بھی کرتے جائیں ۔ تاکہ ان علاقوں میں انہیں جان پہچان بھی مل سکے اور لوگوں کا ساتھ بھی میسر آسکے ۔ اور اسی میل ملاقات میں انہیں اپنا کردار ان آبادیوں کے سامنے پیش کرنے کا موقع بھی ملیگا اور اسلام تیزی سے  وہاں اپنی جگہ بنائے گا ۔  مسلمان مردوں کو تو ایک قدم اور بڑھکر اجازت ملی کہ جو خواتین اہل کتاب ہیں  اور اسلام کی جانب راغب نظر آتی ہیں اور آپ خود بھی باعمل مسلمان ہیں تو ایسی خواتین سے بھی نکاح کریں ۔ تاکہ آپ کے اعلی کردار سے متاثر ہو کے انہیں بھی اسلام کی روشنی اور رہنمائی نصیب ہو ۔ لیکن اب نہ وہ زمانہ رہا نہ ہی وہ مسلمان رہے۔ بلکہ اب تو مسلمان ہی اسلام کے نام پر دھبہ بن چکے ہیں ۔ یہاں اس اجازت کو استعمال کرنے والے اہل افراد ہی موجود نہیں ہیں۔ تو اس پر عمل کرنے کا بھی کسی کا کوئی حق نہیں بنتا ۔ یہاں تو ایسی مسلم خواتین بھی دکھائی دیتی ہیں۔ جنہوں نے صرف نکاح نامے پر خانہ پری کرنے کے لیئے مولانا صاحب کے سامنے غیر مسلم لڑکے کو بٹھا کر کلمے کے الفاظ دہرا دیئے جسکا اسے مطلب بھی  معلوم نہیں ہو گا  کہ چلو جی ہمارے ضمیر پر کوئی بوجھ نہ رہے باقی دیکھی جائے گی ۔ یا پھر ایسے مرد  بھی دیکھے ہیں جنہوں نے 18 ، 18 سال یا اس سے بھی ذیادہ وقت غیر مسلم خواتین کے ساتھ نکاح کر کے گزار دیئے اور انہیں تو کیا کردار سے متاثر کرتے ـ( کردار ہوتا تو متاثر بھی کرتے ۔) الٹا رہا سہا ایمان بھی گنوا بیٹھے ، نماز سو کبھی پہلے عید کے عید پڑھ لیتے تھے اب اس سے بھی گئے ۔ روزہ جو کبھی خدا کے خوف سے نہیں لوگوں کے خوف سے ہی رکھ لیتے تھے اس سے بھی گئے اور بڑی ڈھٹائی سے فرمائیں گے کہاں جی یورپ میں کون سا روزہ ۔ یعنی اپنے بدکرداری کا ملبہ سارے یورپ میں رہنے والے مسلمانوں پر ڈال دینا، (جبکہ یورپ کا مسلمان  اور پاکستانی، پاکستان میں رہنے والوں سے کہیں ذیادہ اسلامی تعلیمات کی پابندی کرنے کی کوشش کرتا ہے)۔  غیر مسلم بیگم ایک برتن میں سؤر پکاتی ہیں تو موصوف اسی دیگچی میں حلال حلال کھیلتے پائے جاتے ہیں ۔  پیگ بھی بیگم کیساتھ مل کر پیتے پائے جاتے ہیں ۔ ایک بار ہم نے ایسے ہی ایک موصوف سے پوچھ ہی لیا کہ آپ نے اپنی بیگم کو اپنی زبان کیوں نہیں سکھائی تو موصوف بولے ، چھوڑیں جی اب پاکستان سو باتیں فون پر میں کرتا ہوں اچھا ہے نا کہ نہیں سمجھتی ۔ ورنہ کس کس بات کا جواب دیتا ۔ (واہ کیا تاویل پیش کی ہے ۔ اتنا ہی ڈر اللہ کو جواب دینے کا بھی ہوتا تو شاید موصوف یہ گُل نہ کھلا رہے ہوتے ۔) لہذا ایسی تمام شادیوں کو اسلام کی ڈھیل نہ سمجھیں اس پر شدید گرفت کو ہمیشہ یاد رکھیں ۔ پہلے خود کو باعمل مسلمان بنائیں کہ کوئی آپ کے کردار کو دیکھ کر اسلام پر طعنے نہ کسے بلکہ اسلام میں داخل ہونا خوش نصیبی سمجھے ۔ ورنہ پھر ہم دیکھ ہی رہے ہیں کہ ایک ہاتھ میں رنگین بوتل ایک میں نامحرم عورت کا ہاتھ اور ڈھونڈتے ہیں حلال گوشت کی دکان ۔ ( بندہ پُچھے جب کرنا حرام، بھرنا حرام ، اٹھنا حرام بیٹھنا حرام ، کمائی حرام، جمائی حرام، سونا حرام، جاگنا حرام ، پینا حرام تو بھیا  کھا بھی حرام لو ) چھوڑو یہ تکلف ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

 ●●●

تحریر: ممتازملک.پیرس

مجموعہ مضامین: سچ تو یہ ہے

 اشاعت:2016ء

●●●

100% LikesVS
0% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں