(22) درد بھی ایک نعمت/ کالم۔ سچ تو یہ ہے

(22) درد بھی ایک نعمت
تحریر: ممتازملک۔ پیرس

آپ بھی کہتے ہوں گے کہ یہ کیا بات ہوئی ۔ کبھی کوئی درد بھی اچھا ہو سکتا ہے ، درد تو درد ہوتا ہے۔ دکھ دیتا ہے تکلیف دیتا ہے ۔ کئی لوگ تو باقاعدہ دعا بھی کرتے ہیں کہ یا اللہ ہمیں کبھی کوئی درد نہ ہو ۔ اور اکثر لوگ تو درد نہ ہونے کو بڑی خوش نصیبی سمجھتے ہیں ۔ لیکن دیکھیں اسی بات کا ایک اور رخ ۔ جذام کے یعنی کوڑھ کے مریضوں کے بارے میں خیال کیا جاتا  تھا اور ڈاکٹر بھی یہ بات کہتے تھے کہ اس مرض میں ایک خاص جرثومہ انسان کے اعضاء کو آہستہ آہستہ ختم کرنے لگتا ہے جس کی وجہ سے اس کے بدن کے اعضاء  اور گوشت لوتھڑے کی طرح اکٹھا ہونے لگتا ہے یا دوسرے لفظوں میں گلنے لگتا ہے ۔  لیکن اب  ایک اور تحقیق نے یہ بات ثابت کی ہے کہ ایسا نہیں ہے بلکہ اس مرض میں انسان کے اعضاء دھیرے دھیرے سُن ہونے لگتے ہیں اور ایک وقت آتا ہے کہ بلکل ہی بے حس ہو جاتے ہیں نہ انہیں ٹھنڈا گرم کا احساس ہوتا ہے نہ ہی کوئی درد ہوتا ہے ۔ جیسے کہ انسان کوئی  گرم چیز پکڑ لے تو ہماری یہ ہی حس ہمیں خبردار کرتی ہے کہ اسے چھوڑ دے یا کوئی کٹ لگ جائے تو درد کا احساس ہی ہوتا ہے جو اسے دوا لگانے یا علاج کروانے پر تیار کرتا ہے ۔  لیکن جذام کے مرض میں انسان اپنے ہی وجود سے اس طرح لاتعلق ہوتا ہے کہ رات میں سوتے وقت  کوئی چوہا اسے کتر کر اس کا گوشت کھا جائے یا اسکا کوئی عضو کاٹ دیا جائے تو خود کو بچانا یا کراہنا تو دُور کی بات بلکہ وہ جاگے گا بھی نہیں ۔ خدا معاف کرے ۔ کیسی خوفناک حقیقت ہے کہ جس درد سے ہم خلاصی چاہتے ہیں۔ یہی درد ہمیں کسی بھی بڑی تکلیف سے بچانے کے لیئے الارم کا کام کرتا ہے ۔  یہ درد ہی تو ہے جو ہمیں کسی دوسرے کی تکلیف کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے ۔ اپنے آپ کو بچانے پر راغب کرتا ہے ۔ دوسرے کے آنسو بھی تو تبھی پونچھے جا سکتے ہیں جب آپ درد کی اس شدّت کو محسوس کر سکتے ہیں ۔ اسی لیئے تو کہتے ہیں کہ  بھوک میں بھوکے کی بھوک کا احساس ہوتا ہے تو تکلیف گزارنے والا ہی کسی دوسرے کی تکلیف کو بہتر سمجھ سکتا ہے ۔ اور ویسے بھی خدا جنہیں یاد کرتا ہے اسے کسی بھی تکلیف یا آزمائش میں ڈالتا ہے ۔ اس درد کو ایک نعمت سمجھنا چاہیئے کہ یہ ہمیں خدا کے قریب کرتا ہے ۔ خدا کی مخلوق کے دکھ درد کا احساس دلاتا ہے ۔ خدا کی طاقت کے آگے انسان کو اس کی کمتری کا احساس دلاتا ہے اور اسے یاد دلاتا ہے کہ کوئی ہے جو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے ۔ کوئی ہے جو جب چاہے کسی کو طاقت بخش دے اور جب چاہے انسان کی طاقت  کو مٹی میں ملا دے ۔ خدا خود بھی تو دُکھی دلوں میں رہتا ہے ۔ انعام کے طور پے  یہ ہی دکھ کی درد کی گھڑیا ں ہی تو دعا کی قبولیت کو اور یقینی بنا دیتی ہیں ۔ یہاں تک کہ بابا فرید فرماتے ہیں کہ                “مسجد ڈھا دے مندر ڈھا دے، ڈھا دے جو کچھ ڈھیندا
پر کسے دا دل نہ توڑیں، رب دلاں وچ ریہندہ “

●●●

تحریر: ممتازملک.پیرس 

مجموعہ مضامین: سچ تو یہ ہے 

اشاعت:2016ء

●●●

100% LikesVS
0% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں