(24) یورپ میں مقامی طور پر شادیاں/کالم۔ سچ تو یہ ہے

(24) یورپ میں مقامی طور پر شادیاں

تحریر: ممتازملک.پیرس

ابھی کل کی بات لگتی ہے کہ ہم لوگ پاکستان سے شادیاں کر کے یورپ میں آباد ہوۓ تھے آج دیکھتے ہی دیکھتے ایک نسل جوان ہو کر ماں باپ کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہے اچھی ،کامیاب اور تابعدار اولادوں کو دیکھ کے ماں باپ کی آنکھوں کو جو ٹھنڈک اور دل کو سکون ملتا ہے ۔اس خوشی کی برابری کوئی قارون کا خزانہ بھی نہیں کر سکتا ۔ پہلے پہل وہ ماں باپ جنہیں اپنے بچوں سے زیادہ بھانجے بھتیجوں کا غم ستاتا تھافیصد 90 ایسے ماں باپ کے سر سےاب تلخ تجربات کے بعد اپنے رشتہ داروں کے ہاتھوں لٹنے اور دکھ اٹھانے کے بعد پاکستان میں رشتے کرنے کا رجحانبڑی تیزی سے کم ہوا ہے ۔ جس کی بڑی وجہ پاکستان سے آنے والے لڑکے لڑکیوں کی اکثریت کا اصل مقصد گھر بسانے سے زیادہ یورپین کارڈز کا حصول اور دوسرے نمبر پر ان کی روایتی تنگ نظری رہی ہے ۔کئ باتیں جو پاکستان میں الگ رنگ میں دیکھی جاتی ہیں وہ یورپ میں اس نظریہ سے نہیں دیکھی جاتی ہیں ،جیسا کہ خواتین کا ہاتھ ملانا ، کسی سے بھی مسکرا کر بات کرنا یہاں پراچھے آداب میں سمجھا جاتا ہے اور اس سے ان کے اخلاق کا اندازہ لگایا جاتا ہے ۔جبکہ پاکستانیوں کا  نظریہ ہوتا ہے کہ جہاں کسی خاتون نے مسکرا کر بات کی سمجھ لو بھائی یہ ہمارے لیئے ہی گھر سے نکلی ہے بلکہ ہم بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ بس جی لڑکی ہنسی تے پھنسی ۔کسی سے ہاتھ ملاتےدیکھ کر تو ہم فورا اس کے اوپر بدکردار ہونے کا ٹھپہ لگانے میں بلکل دیر نہیں کرتے کہ مبادا پھر یہ نیکی کا موقع ملے نہ ملے ۔ہماری شکی اور وہمی زہنیت نے ہمیں یہ سوچنے کے قابل ہی نہیں چھوڑا کہ باکرداری یا وفاداری کا چوکیداری سے کوئی  تعلق نہیں ہوتا ۔جو مرد یا عورت اپنے رشتے سے وفادار ہے وہ ساری دنیا تن تنہا بھی گھوم کر آجاۓ گا تو کبھی اپنے دامن کو داغدار نہیں کرے گا جبکہ بدکردارعورت ہو یا مرد کوئی داڑھی کوئی برقع کوئی ابا ، کوئی اماں، کوئی بھائی، کوئی  دین ، کوئ دھرم اسے گندگی میں گندہ ہونے سے نہیں روک سکتا۔ لہذاجو لوگ یہ سمجھتے  ہیں کہ ان کی چوکیداری کی وجہ سے ان کی بیٹی یا بیٹا کسی بھی برائی سے محفوظ ہے تو یہ ایک خیال خام ہے۔ بچوں کو اچھائی برائی کی پہچان بتا دیں اور ہم خود اپنی نگاہوں کی اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کر لیں تو یقین جانیئے۔ ہماری اپنی اولادوں کی بھی خدا حفاظت فرماۓ گا ان شااللۂ ۔ ویسے تو یہ بات بڑی خوش آئند ہے کہ اب ہمارے بچوں کی پسند اور ڈیمانڈ کے مطابق ماں باپ کی مشترکہ پسند پر مقامی طور پر ہیرشتے کرنے کا سلسلہ چل پڑا ہے اللہ ان رشتوں کو کامیاب کرے آمین۔ لیکن وہیں پر فکر مندی کی بات یہ ہے کہ اب پاکستانیوں کی روایتینمائش پسندی کا اظہار یہاں بھی ہونا شروع ہو گیا ہے ۔زیادہ سے زیادہ مہنگا لہنگا کس کا ہو گا، سب سے مہنگا کس دولہا کا سوٹ ہو گا ،کس نے لڑکے کی ماں بہنوں کو کتنا سونا زیورات کی صورت رشوت میں دیا ہے ۔ کس نے پانچ سو مہمانوں کو اور کس نے ہزار مہمانوں کو پچیس یا پچاس ڈشز پیش کی ہیں ۔ جس کسی کی ایک یا دو بیٹیاں ہیں وہ تو شاید یہ کر بھی لے لیکن جن کی چار چار بیٹیاں ہیں وہ اس ساری کاروائی میں کتنے متاثر ہوں گے ہم شاید ایک منٹ کے لیئے بھی یہ سوچنے کو تیار نہیں ہیں ۔ اور اس بات کے برے اثراتاور تباہی سے بلکل ہی نظریں چرا رہے ہیں ۔ کیا ہو گیا ہے ہماری عقل کو ۔آپ اپنے بیٹا یا بیٹی کو جو چاہیں دیں اس میں کوئی قابل اعتراض بات نہیں ہے لیکن اس کینمائش کرنا کسی طور بھی مناسب نہیں ہے نہ تو معاشرتی لحاظ سے نہ ہی دینی نقطۂ نظر سے۔ ویسے بھی یورپ میں پلے بچوں کو نہ تو زیورات سے کوئی خاص شغف ہوتا ہے نہ ہی کسی دکھاوے کی پرواہ ۔ بد قسمتی سے ان بچوں کے ذہنوں میں ہم نےہی دکھاوے کا یہ زہر بھرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے ۔ ایک ایک شادی پر لوگ اندازہ چالیس ہزار یورو تک خرچ کر رہے ہیں ۔ اس کے لیۓ انہیں چاہے کسی کا مقروض ہی کیوں نہ ہونا پڑے ۔کئی بار خدانخواستہ شادی ختم ہو جاتی ہے لیکن اس شادی پر لیا ہوا قرضہ آپ کی جان نہیں چھوڑ رہا ہوتا۔ زندگی کو آپ جتنا آسان کرنا چاہیں ۔ یہ آپ کے اپنے ہاتھ میں ہے اور جتنا مشکل کرنا چاہیں ۔ وہ بھی آپ کے اختیار میں ہے۔ یہ ہی شادیاں جو ہم سب کے لیئے مہنگی سے مہنگی ہوتی جارہی ہیں ۔ان کو آسان کرنے کے لیے ہم دو گواہوں کے علاوہ اگر کرنا چاہیں تو کیاایک سو یا ڈیڑہ سو  لوگوں میں ون ڈش کے ساتھ منعقد نہیں کی جاسکتی ہیں ۔ لڑکے لڑکی کے صرف ایک دن کے جوڑے کے لیۓ ڈیڑہ سے دو لاکھ روپے اڑا دینا کون سی عقل مندی ہے ۔ آج جب کہ آۓ دن فیشن بدلتا ہے کبھی قمیضیں چھوٹی تو کبھی لمبی ۔ کبھی تنگ تو کبھی کھلی ایسے میں لڑکیوں کو پچاس پچاس جوڑے سلوا کر دینا کہاں کی سمجھ داری ہے ۔ جبکہ انہیں دیکھتے دیکھتے ہی آنکھیں بھر جاتی ہیں انہیں پہننے سے پہلے ہی فیشن بدل چکا ہوتا ہے اور لڑکیا ں انہیں کھولے بغیر ہی کباڑ خانے میں رکھوا دیتی ہیں ۔اسے کہتے ہیں مال مفت دل بے رحم ۔جس چیز کو حاصل کرنے کے لیئے محنت ہی نہیں کی اس کی قدر بھی کوئی کیا کرے گا ۔پانچ چھ سوٹ لڑکے کی جانب سے اور اتنے ہی اگر لڑکی کی جانب سے سلوا کر دے دیۓ جائیں تو وہ ہی ابتدائی مہینوں کی دعوتوں میں بہت ہوتے ہیں تو جب فیشن بدلتے ہیں تو نئے لباس بنانے نہ تو جیب پر بھاری پڑتے ہیں نہ ہی دل پر ۔ ویسے تو ہمارے ہاں مردوں کی عادت ہوتی ہے کہ بیوی کو خرچ دینا پڑے تو تڑپ تڑپ کر پیسہ نکالیں گے ۔ لیکن جانے کیا بات ہے ایسے موقعوں پر ان کی عقل بھی دکھاوے کی چادر اوڑھ لیتی ہے اور خوشی خوشیمقروض ہونے کو تیار ہو جاتے ہیں ۔ جب کہ اس کا اثر خواتین سے زیادہ ان کی اپنیجیب ہی نہیں بلکہ صحت پر بھی پڑتا ہے ۔اور ایک اور بات اگر ہم پلے سے باندھ لیں کہ جوڑیاں اللہ پاک کے ہاں بنتی ہیں ۔ ہم زمین پر انہیں ڈھونڈنے کی رسم ادا کرتے ہیں ۔ اور کس کی جوڑی نے کس کے ساتھ ساری عمر گزارنی ہے یا اس شادی نے ٹوٹ جانا ہے یہ بھی قادر مطلق ہی بہتر جانتا ہے ، لہذا نندوں ساسوں کو زیورات کی رشوت دینے سے کبھی بھی لڑکیوں کے گھر آباد نہیں ہوتے بلکہ ان کی لالچ اور توقعات کے منہ اور کھلتے چلے جاتے ہیں ۔ گھروں کو آباد رکھنے کے لیئے بچوں کے سسرال والوں کو دولت کی چمک سے اندھا کرنے کی بجاۓ بچوں کو اچھے اخلاق اور کردار کی بری اور لڑکیوں کو سگھڑاپے اور نیک سیرتی اور اچھی تعلیم کاجہیز دیں ۔جو نہ صرف دنیا بلکہ ان کی عاقبت کو بھی سنوارنے کا باعث بنے۔

●●●

تحریر: ممتازملک.پیرس

مجموعہ مضامین: سچ تو یہ ہے

 اشاعت : 2016ء

●●●

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں