(25) ماوں کے لعل/کالم۔ سچ تو یہ ہے

(25) ماوں کے لعل

تحریر: ممتازملک.پیرس

آج یورپ میں اتنے سال گزار کر بھی کبھی کبھی ایک ٹیس سی ضرورو اُٹھتی ہے دل میں کہ کاش اپنا ملک کبھی روزگار کے غم میں نہ چھوڑنا پڑتا۔ مگرکہتے نا کہ   تجھ سے بھی دلفریب ہیں غم روزگار کے  تو بس وہی مجبوریاں ہم پاکستانیوں کی اکثریّت کو مادرِ وطن کی گود سے نکال کر وقت کی بے رحم گود اور زمانے کی بھرپور ٹھوکروں میں لا پٹختی ہیں ۔ ایک بار یورپ کو آسان چارہ سمجھنے والے نجانے کتنے سال تک واپسی کا راستہ بھی بھول جاتے ہیں ۔ کیوں کہ یہاں آ کر پتہ چلتا ہے کہ پہلے تو یہاں پہنچنا جوۓ شیر لانا تھا اب یہاں کمانا ، اپنا خرچ پورا کرنا اور پھر اس میں سے بچا کر اپنے آنے جانے کے ٹکٹ کے لیئے رقم بچانا بھی کوئی مذاق نہیں ہے۔ چھوٹی چھوٹی عمر کے لڑکوں کو جب ایفل ٹاور یاشانزے لیزے جیسی مصروف شاہراہوں پرپھولوں کی چند ٹہنیاں پکڑے یا تھیلے میں چند کھلونے ڈالے پولیس سے آنکھ مچولی کھیلتے ، بچتے بچاتے ایک ایک کو روک کر ان سے خریدنے کی درخواست کرتے اور پولیس کی گاڑی نظر آتے ہی معصوم پرندوں کی طرح پھڑ پھڑا کر بھاگتے چھپنے کی جگہ ڈھونڈتے ہوئے دیکھتی ہوں تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔وہ لوگ جن کے پاس مکمل قانونی دستاویزات نہیں ہوتیں انہیں یہاں رہتے کے لیئے سالوں ایسے عذاب جھیلنے پڑتے ہیں ۔ اپنے ملک میں ماؤں کے لاڈ سے بگاڑے ہوئے یہ بچے بارہ بجے آنکھیں ملتے ہوئےجھگیوں میں بیٹھ کر بھی نہاریوں کے ناشتے کرنے والے یہ بچے، پڑھائیوں میں دسویں بھی مرمر کر پاس کرنے والے یہ لڑکے جو اپنے ملک میں اپنے باپ دادا کے کاروبار کو اپنانا یا ہاتھ بٹانا بھی شایانِ شان نہیں سمجھتے۔ کسی بھی پیشے کو اپنانا ہتک سمجھتے ہیں اور خود کو بائیسویں گریڈ سے نیچے کی نوکری  کے  لائق نہیں سمجھتے،  کو جب یہ سب جھیلنا پڑتا ہے تو پاکستان بہت یاد آتا ہے۔نوالے بنا کر منہ میں رکھنے والی ماں بھی بہت یاد آتی ہے۔۔۔۔جب کوئی شخص بھی یہاں رہنے کے لیئے انہیں ایک کمرہ تک کراۓ پر نہیں دیتا (کیوں کہ یہاں پر رہائشی قوانین بہت سخت ہیں) تو انہیں اپنے ملک کی کچی کوٹھری بھی بہت یاد آتی ہے۔یورپ میں عموما سال کے آٹھ مہینے تو سردی پڑتی ہے بلکہ شدید ٹھنڈ پڑتی ہےجو رگوں میں حقیقتا خون کو جما دے ایسے میں بنا رہائش کے یہ لوگ کیسے اپنے سونے کے لیئے جگہ ڈھونڈتے ہیں اگر اِن ماؤں کو پتہ چل جاۓ تو شاید وہ یورپ کا نام لینا بھی پسند نہیں کریں گی ۔کئی بار یہاں سونے کے لیئے جگہ نہ ملنے پر یا کسی دفتر کے سامنے کئئ گھنٹے باری نہ آنے اور باری آنے پر کاؤنٹر بند ہونے کی اذیّت سے بچنے کے لیئے رات کے دو دو بجے ہی لائن میں لگ جاتے ہیں اتنی شدید ٹھنڈ میں کئی لوگ اکڑ کر موت کی وادی میں پہنچ جاتے ہیں ۔کبھی تو یہاں چندے کا انتظام ہو جائے تو مائیں ان کا میّت بھی دیکھ پاتی ہیں ورنہ ساری عمر بیٹوں کی راہ دیکھتی رہ جاتی ہیں ۔زندہ رہ جائیں تو ان کی مائیں بہنیں اور دوسرے رشتہ دار انہیں سولی پر ٹانگے رکھتے ہیں کہ بیٹا یورپ میں خود تو عیش کر رہے ہو ہمیں بھول گئے  بس یہ ہی باتیں نہ سننے کے لیئے یہ لڑکے کئی بار تو اپنی خوراک تک پر مناسب رقم خرچ نہیں کرتے ۔اپنے کپڑے تک سالوں سال تک چلاتے ہیں ۔کیوں کہ فرمائشوں کی ایک لمبی لسٹ اس قربانی کے بکرے کے خوابوں میں آکر بھی اسے ڈراتی رہتی ہے۔جو کبھی بھی ختم نہیں ہوتی ۔ یہاں تک کہ بہت کم یورپ میں رہتے لڑکوں کو دیکھا ہے کہ جن کی شادیاں بھی پینتیس یا چالیس سال سے پہلے کسی ماں یا بہن نے ہونے دی ہو ۔ وہ بھی اس وقت جب لڑکا خود کوئی آواز اٹھانا نہ شروع کر دے،کیوں کہ یہ لڑکے ماؤں کے لیئے ان کی نسل یا ارمان نہیں رہتے لاٹری کا ٹکٹ بن چکے ہوتے ہیں اور ان کی شادی کی صورت میں یہ لاٹری کے ٹکٹ انہیں اپنے ہاتھوں سے جاتے ہوۓ محسوس ہوتے ہیں اور اگر لڑکے کے مجبور کرنے پر اس کی شادی کر بھی دیں کہ لڑکا کہیں میم نہ کر لے تو پاکستان میں رہنے والی ماں بہنیں اپنی بیوی کو یہاں لانے کے بعد واپس پاکستان جب بھی پہلے دورے پر جاتا ہے تو اسّی فیصد گھروں میں اس لڑکے کی واپسی تک اس کے طلاق کروائی جا چکی ہوتی ہے۔ اس کا ثبوت یہاں پر مقیم شادی شدہ پاکستانی لیگل مردوں کا سروے کر کے کیا جا سکتا ہے۔   تقریبا ہر آدمی کی کم از کم ایک منگنی ، نکاح یا شادی ختم کروائی جاچکی ہوتی ہے۔ اس کی اپنی ماں بہنوں کے ہاتھوں ۔ میں نے خودکئی  نندوں کو یہ کہتے سنا کہ بھائی تو ہمیں بہت اچھا لگتا ہے مگر اس کی بیوی ہمیں ایک آنکھ نہیں بھاتی ۔ حالانکہ ان کی بھابیاں خوبصورت بھی تھیں، سگھڑبھی تھیں اور پڑھی لکھی بھی تھیں لیکن ان کا جرم شاید یہ تھا کہ وہ ان کے یورپ میں مقیم بھائی کی بیوی تھیں ۔جو اس کی کمائی کو ان تک پورا پہنچنےمیں رکاوٹ بن گئی تھی کیونکہ اسے وہاں اپنا گھر بھی چلانا ہے۔لیکن ایک بار یہ مرد جب اپنا گھر ماں بہنوں کی محبتوں میں قربان کر دیتے ہیں تو آنکھوں سے پٹی اترنے کے بعد انہیں گھر والوں سے متنفّر اور محتاط بھی ہو جاتے ہیں اور دوبارہ اپنا گھر خراب کرنے پر اتنی آسانی سے تیار نہیں ہوتے۔             

  ●●●

 تحریر:ممتازملک ۔پیرس

مجموعہ مضامین: سچ تو یہ ہے 

اشاعت 2016ء   

                   ●●●                                                                      

100% LikesVS
0% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں