تبصرہ / ایاز محمود ایاز/ اے شہہ محترم ص ع و

معروف شاعر اور آٹھ کتابوں کے مصنف

جناب ایاز محمود ایاز  کا پیرس ، فرانس سے  تبصرہ


دورِ صحابہ سے لے آج کے دور تک جہاں صحابہ کرام رض اور علما کرام نے حضورپاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نعتوں کی روایت کو فروغ دیا ،  وہیں اولیاء اللہ نے بھی اسلام کی ترویج و اشاعت کے ساتھ حضور پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عشق کو ایمان کی تکمیل کے لیے ناگزیر قرار دیا اور عشقِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حصول کے لیے نعت خوانی کو سب سے بہتر ذریعہ قرار دیا۔  نعت گوئی کی ابتداء عربی زبان میں ہوئی ، سب سے پہلے قرآنِ کریم میں ہمیں حضورﷺ کی ہمہ جہت اور کامل شخصیت کا تعارف کرایا گیا۔ ربِّ کائنات نے پیارے نبیﷺ  کوجن جن الفاظ میں یاد فرمایا ہے ، ان پر غور کریں تو ہر لمحہ نعت و مدحت کے نئے باب کھلتے نظر آئیں گے، وما ارسلناک اِلّارحمۃً للعٰلمین، اِنک لعلیٰ خُلقٍ عظیم، خاتم النبیین ، بالمومنین رؤف رحیم ، داعیاً اِلی اللہ، صاحبِ مقامِ محمود ،سراجاً منیر، طٰہٰ، یٰس، شاہد، مبشر، مزمل، مصدق، معلمِ کتاب و حکمت، احمد، محمد اور حامد ، ۔۔۔۔۔خدائے بزرگ وبرتر کی طرف سے یہ تعارف پوری طرح نعت کے زمرے میں آتا ہے۔ زیرِ نظر نعتیہ مجموعہ کلام ۔۔ اے شہہ محترم صلی اللہ علیہ وسلم۔۔۔۔اپنے  نبی کریم ﷺ سے عشق ہے۔ محترمہ ممتاز ملک صاحبہ کے حصے میں وہ سعادت آئی جو بڑے بڑے شعراء کو نصیب نہیں ہوتی ۔ میں سمجھتا ہوں نعت لکھی نہیں جاتی لکھوائی جاتی ہے جس پہ نبی کریمﷺ کی نظرِ خاص اور خصوصی کرم ہو وہ ہی نعت لکھ سکتا ہے۔ ممتاز ملک صاحبہ نے جہاں نبی کریم ﷺ سے اپنے عشق کو اپنا موضوع سخن بنایا وہیں انہوں نے بڑی خوبصورتی سے  نبی کریم ﷺ کی اسوہ حسنہ کو بھی موضوع بنایا ممتاز ملک صاحبہ کے لئے دعا گو ہوں کہ آپکا یہ ہدیہ نعت آپ کی بخشش کا سبب ہو اور آپکی عقیدتوں کا یہ سفر ہمیشہ اسی طرح جاری رہے ۔ آمین                                                                 ایازمحمودایاز       

                       پیرس ۔ فرانس

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں