ہم پاکستانی کدو/کالم

ہم پاکستانی کدو   

      تحریر: ممتازملک.پیرس 


ابھی ابھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔ایک ویڈیو دیکھنے کا اتفاق ہوا جو کہ  ایک امریکی نوجوان کی پاکستان کے دورے پر مبنی تھی ۔ جسے  دیکھ کر ہمارا تو ہنس ہنس کر رونا ہی نکل گیا  سچ میں ۔ جس میں ہر دکاندار انہیں ہر چیز مفت میں بانٹ رہا ہے ۔ کیا قلفیاں  ،کیا ٹوپیاں ، کیا جوتے ، کیا ہی کھابے، کیا رکشے ، کیا سواریاں ۔کہ اس نوجوان اور اسکے گروپ کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں اور وہ بتا رہا ہے کہ وااااااو پاکستانی کتنی مہان قوم ہے۔ یہ مہمانوں کی کیا بےمثال میزبانی کرتی ہے ۔ کیا ملک ہے پاکستان ۔۔۔۔ واقعی جناب پاکستان جیسا ملک دنیا میں اور کہیں نہیں ہو گا ۔ لیکن پاکستانیوں جیسی ڈرامہ باز قوم بھی کہیں نہیں ہو گی۔ جو انگریزوں امریکیوں اور انڈینز کے آگے تو باقاعدہ حاتم طائی بن کر اپنے خزانے کے منہ کھول دیتے ہیں اور اس کے کیش کرائے 28 ہزار روپے بھی دس دن میں خرچ نہیں ہونے دیئے ۔ لیکن جناب یہ ہم پاکستانی مہمانوں سے پوچھیئے جنہیں ثواب سمجھ کر کند چھری سے ذبح کرنا بھی یہ ہی پیارے پاکستانی اپنا اولین فریضہ سمجھتے ہیں۔ ہم باہر ہوں تو بھی بریانی کی پلیٹ سے انصاف کرتا ہوا ملک میں بیٹھا ہوا پیارا یا پیاری فون کی گھنٹی سنتے ہیں باقاعدہ ماتمی انداز میں، ہائے میں رڑ گیا ، ڈوب گیا ، بھوکا مر گیا ،کے بین سنائے گا/گی ۔ اور وہاں سامنے بیٹھے یا بیٹھی کو آنکھ مار کر اپنی ایکٹنگ پر داد لینے کو  فخریہ مسکراہٹ اچھالے گا/گی۔۔ جبکہ بیرون ملک سے فون کرنے والے ہم جیسے احمق کدو گھر کے راشن کے پیسے بھی اٹھا کر فورا اپنی بیوی یا شوہر کو بتائے بنا ہی اسے منی گرام کرنے کو دوڑ پڑے گا کہ اف خدایا کہیں دیر ہو گئی تو واقعی کسی کے مرگ کی خبر ہی نہ آ جائے ۔ پاکستان جانے کے لیئے ایک ایک کے لیئے کوئی نہ کوئی تحفہ نہ رکھا تو گویا آپ کی شکل دیکھنا ان کے لیئے حرام ہو جائے گی ۔ ہم وہاں مہمان نہیں ہوتے بلکہ ہم ہی وہاں بیٹھوں کے میزبان قرار دے دیئے جاتے ہیں۔  بھئی آپ لوگ آئے ہیں تو ہماری بھی  آوٹنگ ہو جائے گی ھی ھی ھی ۔ ورنہ ہم کہاں جا پاتے ہیں کہیں، چلو بیٹا ماموں ، چاچا  تایا ، پھپھو آئی ہیں شاباش تیار ہو جاو ان کو کمپنی دینے کو۔ اور اس دس پندرہ لوگوں کی  کمپنی میں یہ ایک میزبان کدو ہوتا ہے جس کے سر پر اب پاکستان آنے کے جرم کی پاداش میں پوری پوری سزا کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ یعنی ہم جیسے باہر سے گئے پاکستانی کدو کا اب بھجیا بھی بنے گا اور حلوہ بھی۔ اس امریکی کے اٹھائیس ہزار بچانے والی قوم کے سیانے رشتہ دار اور ملاقاتیئے ہمارے ایک ماہ میں اٹھائیس لاکھ لگوا کر بھی ہم سے کبھی راضی نہیں ہوتے ۔ ہمارے ہی تحفے کو” ایک ہی “گننے والے کو وہ ایک ہزار لوگ کبھی نظر نہیں آئینگے جنہیں یہ ایک ایک کر کے تحفہ نوازی کی گئی ہے ، اس کی شادی ہے ارے آپ باہر سے آئے ہیں کچھ دے دیجیئے گا پہلی بار مل رہے ہیں نا، ان کا عقیقہ ہے ارے کچھ دیدیجیئے نا آپ تو باہر سے آئے ہیں ، اس کی سالگرہ ہے ،یہ پیدا ہو گیا ہے ، وہ مر گیا ہے ۔۔۔۔بس کسی نہ کسی بہانے کچھ دیدیجیئے نا  اب بندہ پوچھے تم لوگ یہاں رہتے ہو ۔یہ تمہیں تمہارے مواقع پر لوٹائیں گے ہماری کونسی خوشی غمی یہ بانٹنے آئینگے کہ ہم ان کو دے دیکر جائیں۔   تو سمجھ میں آیا کہ ہم کدو ہی تو ہیں ان سیانے پاکستانیوں کی کمیٹیاں ۔ ہم سے ہزاروں روپے بھروائے جاتے ہیں جو بعد میں وہ رشتہ دار اپنے گھر کی تقریبات میں کمیٹی اور بی سی کے طور پر کھلوائیں گے ۔ اسے کہتے ہیں آم کے آم گٹلیوں کے دام ۔ ہم تو ان کے موٹر سائیکل سے گاڑی اور تانگے سے رکشہ اور چنگچی کے کرائے اور پٹرول بھی بھرتے ہیں ۔ سارے گھر میں بیس بندوں کا راشن میں بھرواتے ہیں اور ہر روز ایک دو ہزار روپے  کہیں نہ بھی نکلیں تو مذاق ہی مذاق میں جھڑوا لیئے جاتے ہیں ، کس مد میں یہ آپ کو کبھی سمجھ نہیں آئے گی ۔ بل آیا ہے تو ان کے ٹبر کا بل بھی آپ ہی بھریں کیونکہ آپ نے غلطی سے ان کے ہاں انٹری جو دے دی ہے ۔ سو گھر کی ساری گیس اور بجلی آپ نے چوس لی ہے جو اب آپ کو نچوڑ نچوڑ کا نکلوائی جائے گی ۔ آپکو گنے کی طرح دوہرا چوہرا کر کے خرچوں کی مشین میں سے گزارا جائے گا ۔ جب تک آپ کا پھوک بھی بکری کے کھانے کے لائق نہ رہے ۔ جب تک آپ کی جیب کی زبان باہر آکر لٹک نہ جائے یہ سب آپکو جونک کی طرح چمٹے رہینگے ۔ جیسے ہی آپ کی جیب سے “خالی ہے” اور کارڈ سے  “نو بیلنس” کا نعرہ بلند ہو گا سب اسی طرح اپنی تاثرات اور رنگ بدلیں گے کہ آپ کو گرگٹ بھی معصوم نظر آنے لگے گا ۔ اس ویڈیو میں جو چالاک ٹولہ بیان دیتا ہے کہ ہم پیسے کو کچھ نہیں سمجھتے ۔ ہم سمجھتے ہیں رشتوں کو ویلیوز کو  اور روایات کو ۔ تو اس فلمی ٹولے سے کہیں خدا کو منہ دکھانا ہے کیوں پیچھے سے جا کر دکانداروں کو پیسے دیتے ہو۔ اور دنیا کی آنکھ میں مرچیں جھونکتے ہو ۔ کبھی تو سچ بول لیا کرو ۔ اگر ہمدردی اور میزبانی ہی کرنی ہے تو اپنے پاکستانی مہمانوں کیساتھ بھی یہ مہربانی کر دیا کرو ۔ جن کا خون چوسنے کی کیا رشتہ دار ، کیا دوست احباب،  کیا ملاقاتیئے ، کیا ہی دکاندار سب نے ہی  قسم کھا رکھی ہوتی ہے ۔ اللہ کے ہاں  کسی انگریز اور امریکی کو مفتے بانٹنے پر انعام نہیں ملنا کیونکہ وہ کوئی غریب غرباء اور محتاج نہیں ہیں بلکہ اپنے پردیسی پاکستانیوں پر ترس کھانے اور ان کی میزبانی کرنے پر ملنا ہے ۔ اگر ہمارے یہ تجربات جھوٹے ہیں تو پلیززززز مجھے بھی اسی ویڈیو والے مفتے پاکستان میں جانا ہے ۔۔کوئی بھیجے مجھے اس کا پتہ پلیزززززاور ہاں ہم جیسے سارے کدو اپنے بچے سرکاری سکولوں میں سرکاری وظیفے لے لیکر پڑھانے والے کدو یاد سے اپنے پچھلوں کے انگلش میڈیم سکولوں کی فیس بھروانا نہ بھولیں ۔ آخر کو آپ کی قبر ہر چراغاں یہ ہی بھانجے بھتیجے ہی تو کروائیں گے ۔ اپنی اولاد تو خیرات پر پل ہی جائےگی ۔ واپس جائیں اور اپنے اندر نوٹوں کا پیڑ اگائیں اور فون کی گھنٹی بجا کر یا اٹھا کر اپنا پھر سے حلوہ بنوائیں ???۔لیکن یاد رکھیں پاکستان کے کلچر کو، اس کے حسن کو آپ کے جھوٹے تڑکے کی قطعی کوئی ضرورت نہیں یے ۔ یہ بےمثال ملک اپنی سچی خوبیوں ہی کی وجہ سے دوسروں کو متاثر کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے ۔ اسے جھوٹ کی بیساکھیوں پر کھڑا کر کے معذور مت کہلوائیں ۔ یہ ملک اپنے پیروں پر کھڑا ہونا جانتا یے ۔ ضرورت ہے پاکستانیوں کو اپنی حیا ، خود داری اور محنت کشی کو جگانے کی ۔  اور اپنی لالچ ، شارٹ کٹس ،حرام خوری اور مفت خوری کو سلانے کی ۔۔۔پاکستان زندہ باد          

            ●●●

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں