(20) منسوب/ شاعری ۔ میرے دل کا قلندر بولے

(20) منسوب

وہ جو اک نام تیرے نام سے منسُوب ہوا
ہر جگہ تیری خطاؤں پہ وہ معتوب ہوا

ناگہانی بڑی گزری ہیں اسی کے دل پر
جرم بھی اسکا نہ تھا جس پہ وہ مصلُوب ہوا

اسنے تو اپنی خودی کے لیئے سب کچھ ہارا 
اور ایک تُو تھا جو اغراض سے مغلُوب ہوا

ذندگی ضد کا ہی بس نام بنا کر رکھ دی 
جو گوارہ نہ مجھے وہ تجھے مطلُوب ہوا

وقت کی قید نہ تھی فیصلہ ہو جانے تک
پھر بھی دشمن ہی میرا کیوں تجھے محبُوب ہوا

اسنے مُمّتاز بچھائے تھے نوکیلے پتھر
بارھا راہ میں گر کر جو میں مضرُوب ہوا
●●●
کلام: ممتازملک 
مجموعہ کلام:
میرے دل کا قلندر بولے 
اشاعت: 2014ء
●●●
100% LikesVS
0% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں