(14) اک جیب ایک پتھر/ نظم۔ میرے دل کا قلندر بولے

(14) اک جیب ایک پتھر 


پنڈال کیا بھرا تھا
جہاں بولتا مقرّر
پہرا بہت کڑا تھا
پہنچے جہاں گزر کر
مزدور بھی تھے اس میں
سرکاری بھی تھے چاکر
کچھ خود کشی کا سوچے
ٹہرے نہ اپنے گھر پر
خالی تھے پیٹ سب کے
ویران تھی نظر ہر
دل میں وہ سوچتا تھا
خود سے الجھ الجھ کر
ہم سب کی حالتوں کا
کس نے لکھا مقدّر
ٹکڑے میں اس کے کر دوں
مل جاۓ اِک دفعہ گر
کچھ سوچ کر نہ جانے
ہر جیب میں تھا پتھر
لمبی سی کار آکر
رُکتی ہے اِک جگہ پر
کالر کو ٹھیک کرتا
نکلا ہے اِک منسٹر
چہرے سے لگ رہا تھا
کوئ پرانا شاطر
صورت پہ لالیاں تھیں
لوگوں کا خون پی کر
اتنے میں آکے بولا
مائیک پہ ایک لیڈر
رونی شکل بنا کر
بولا میرے برادر
آواز ایک گونجی
مائیک کے پاس آکر
میرے بھائی اور بہنوں
ہم سب کا غم برابر
میں بھی شریک ہی ہوں
تم سب کے غم برابر
وعدہ ہوں تم سے کرتا
تم ووٹ دو مجھے گر
تم کو کھڑا کروں گا
میں اپنے قد برابر
تڑپے ہوۓ کلیجے
بھونچکے تھے یہ سن کر
پنڈال میں کسی کو
یاد آئ بہن چادر
 بچے کسی نے دیکھے
بھوکے گئے تھے جو مر
ماں باپ دیکھے جس نے
مرے ایڑیاں رگڑ کر
مائیں بھی یاد آئیں
لائن میں آٹے جا کر
آٹا تو مل سکا نہ
لاش آ گئی تھی گھر پر
سرکار کے کرم سے
غم بٹ رہا تھا گھر گھر
سوچا بے غیرتوں کو
دوں داد کیسے جی بھر
ہر ایک سوچتا تھا
کروں پہل میں تو کیوں کر
اتنے میں کر کے جرات
پھینکا کسی نے کنکر
ایسے میں اور ہوتا
پھر کیا بھلا وہاں پر
جرات ملی تو دیکھا
ہر اک کے ہاتھ پتھر
بارش جو پتھروں کی
ہونے لگی برابر
کوئی بچا سکا نہ
چاکر نہ فوج آ کر
ہوتا رہے گا یہ ہی
آؤ گے نہ سمجھ کر
خود کو ہمارا نوکر
کرسی پہ سمجھو آکر
پیروں میں لیڈروں کو
مارا جو آج دیکر
ٹھنڈا ہوا کلیجہ
اترے ہیں سر کے چکر
ہوتا رہے گا یہ ہی
ہوتا رہے گا یہ گر
پوری ہی قوم کا گر
اِک ساتھ گھومے میٹر
تبدیلیاں ہیں آتیں
بدلے ہیں پھر مقدر
یہ سوچ لو کہ پھر اب
کوئی دے سکے نہ چکّر

                    ●●●                        
کلام:مُمتاز ملک
مجموعہ کلام:
 میرے دل کا قلندر بولے
اشاعت:
2014ء
●●●


 
100% LikesVS
0% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں