(6) خون جگر/ شاعری ۔ میرے دل کا قلندر بولے

(6) خون جگر

وہ جسے خون جگر دے کے تھا پالا میں نے
اپنے ہاتھوں کا بنایا جسے چھالا میں نے

ایک وہ وقت بھی آیا کہ اپنے ہاتھوں سے
درد کی لہروں میں لیجا کے اچھالا میں نے

یہ گماں مجھ کو رہا میں نے کمی کوئی نہ کی
مشکلوں میں تیری حل کوئی نکالا میں نے

تیری آنکھوں سے کوئی اشک نہ گرنے پایا
تیری ہر ایک ہنسی کو تھا سنبھالا میں نے

پھر بھی کیا بات ہوئی فاصلے ایسے آئے
دل کا دریا بھی کئی بار کھنگالا میں نے

تیرےہونٹوں کا تبسم کہ ہو آنکھوں کی ہنسی
تیری کس بات کو بتلا کہ تھا ٹالا میں نے

کر کے خود اپنی خوشی تیری محبت پہ فدا
خود کو من چاہے تیرے روپ میں ڈھالا میں نے

تیری خوشیوں کے تحفظ کے لیئے ہی ممتاز
اپنے دل کا نہ سنایا کبھی نالا میں 
نے
●●●
کلام:ممتازملک 
مجموعہ کلام:
میرے دل کا قلندر بولے 
اشاعت:2014ء
●●●
100% LikesVS
0% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں