(75) جو چاہا تھا / شاعری ۔ میرے دل کا قلندر بولے

(75) جو چاہا تھا

جو چاہا تھا تو نے تجھے وہ ملا ہے 
طلب مال و زر کی نہیں تھی نظر کی 

جو قدرت سے لڑ  کر جہاں کو بسائے 
اسے قدر کیا ہو کسی چشمِ تر کی

ہوں جنکی تمنا میں افلاک رقصاں 
انہیں کیا ضرورت زمینوں پہ گھر کی 

میرا ایسا کوئی وسیلہ نہیں ہے
مجھے دے خبر جو تمہارے نگر کی

فقیروں کے دن رات سب سے جدا ہیں 
 نہیں فکر کرتے ہیں وہ عمر بھر کی

 ہمارا توکل ہماری ہے دولت
کبھی غم نہ کرنا ہماری گزر کی

جو اپنی خودی کو خودی دفن کر دے
اسے فکر کیا گمشدہ رہگزر کی

جنہیں کوئی بیچے یا کوئی خریدے
انہیں  کیا بتاتے ہو قیمت سفر کی 

سنبھالا نہیں جاتا تم سے یہ گھر بھی
چلے بات کرنے کہاں کاشغر کی  

جو کانٹوں سے ممّتاز دھرتی سجا دیں 
وہ کیسے کریں گے تمنا شجر کی 
●●●
کلام:مُمتاز ملک 
مجموعہ کلام:
 میرے دل کا قلندر بولے
اشاعت:2014ء
●●●
100% LikesVS
0% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں