(73) عبادت گاہ/ شاعری ۔ میرے دل کا قلندر بولے

(73) عبادت گاہ 

یہ دل ہے عبادت گاہ صنم 
اس دل کو تُو بازار نہ کر 

جو خلقت میں رُسوا کر دے
تُو مجھ سے ایسا پیار نہ کر

ہم تو ہیں خلوص کے شیدائی
یہ جذبوں کا بیوپار نہ کر

صدیوں میں بنائی ہے عزت
لمحوں میں اسے بیکار نہ کر

ہر ظلم وہ کرنا حق سمجھے 
اور مجھ سے کہے تکرار نہ کر 

سب دیکھوں اور خاموش رہوں 
مجھے ظلم میں حصّے دار نہ کر 

جو منزل سے بھٹکاتے ہوں 
رستے ایسے ہموار نہ کر

پہلے ہی کوئی ہم نیک نہیں 
تُو اور ہمیں گناہ گار نہ کر

یہاں ایک ہی پل کی خبر نہیں
نہ باندھ ارادے وار نہ کر

دل اپنی دُھن میں رہنے دے
برسوں پہلے تیار نہ کر

نہ اور تُو پردہ ڈال ان پر
تُو دشمن کو ہشیار نہ کر

کر بات نبھانے کے دم پر
کچّا پکّا اظہار نہ کر

پہلے ہی زیست آسان نہیں 
تُو اور اسکو دشوار نہ کر

کوئی نہ کسی کو جھیل سکے
ممّتاز کو رب لاچار نہ کر
●●●
کلام:مُمتاز ملک 
مجموعہ کلام:
 میرے دل کا قلندر بولے
اشاعت: 2014ء
●●●
50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں