(17) شوق/ شاعری ۔ میرے دل کا قلندر بولے

(17) شوق

جسموں کے شوق سلامت ہیں ، روحوں کی تھکن کا حال نہ پوچھ
مصروف  زمانہ لے  بیٹھا ، اب  ان کے چلن کا  حال  نہ پوچھ

گر زور سلامت ہے دل کا، زخموں کی کمی کوئی بھی نہیں
آنکھوں سے اگر پردہ نہ ہٹا، تو محروموں کی چال نہ پوچھ

نت روپ  سجاۓ جاتے ہیں، نِت بھید چھپاۓ جاتے ہیں
اے باخبری تیرے بھی کئی ،ہیں اور بڑے جنجال نہ  پوچھ

جو  بزم  سجایا  کرتے  تھے، وہ  بھیڑ  کا  حصّہ ہو   بیٹھے
اب لوگوں کا کیا کہتے ہو ، ہیں لوگ بڑے بے تال نہ پوچھ

لاکھ ان کے  خزانے  بھر  جائیں ، ممّتاز  مرادیں  بر  آئیں
قلّاش ہیں سارے سوچوں کے، ہیں زہنوں کے کنگال نہ پوچھ
●●●
کلام:مُمتاز ملک
مجموعہ کلام:
 میرے دل کا قلندر بولے
اشاعت:
2014ء
●●●
100% LikesVS
0% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں