(72) نورازل/ شاعری ۔ میرے دل کا قلندر بولے

(72) نورِازل

      نورِازل سے نورِابد تک تیرے ساتھ کا وعدہ ہے
کتنے بھی رنگوں میں ڈھل کرحسن تو اسکا سادہ ہے

تیرے ایک اشارے پرکوئی عکس کرے کوئی رقص کرے
             فطرت کی ہر اِک شے میں تابعداری کا مادہ ہے

   جنکی خوشی میں خوش ہو کر ہر چیز فنا ہوجاتی ہے
کیوں میں نے اس پیار کو زہن پہ بوجھ کی طرح لادا ہے

اسکی تو ہر ایک عطا ہی کہیں پہ مجھ کو کم لگتی ہے 
       میری تھوڑی سی بھی شکرگزاری بہت ذیادہ ہے 

  ہر ٹکِ ٹکِ پر میرے ذہن کو سوچ کا وہ اِک موقع دے
کون ہے جس نے سورج چاند کو اِک مرکز پہ باندھا ہے

   نہیں ضرورت ہتھیاروں کی نہیں تمنّا یلغاروں کی    
توڑ سکے نہ پھر بھی مجھ کو یہ مضبوط اِرادہ ہے    

اِک ممتاز کے دم بھرنے سے نہ تُو کم نہ ذیادہ ہے
بس تیری تسبیح کروں میں خود سے میرا وعدہ ہے
●●●
کلام: مُمتاز ملک
مجموعہ کلام:
 میرے دل کا قلندر بولے
اشاعت: 2014ء
●●●

100% LikesVS
0% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں