(24) ٹہر جا/ شاعری۔ میرے دل کا قلندر بولے

(24) ٹہر جا


درپیش مسائل کا ہے انبار ٹہر جا
اے خانماں برباد اے لاچار ٹہر جا 

آۓ گا تیرا وقت بھی اتنا تُو یقیں رکھ
نہ ایسے تُو ہو وقت سے بیزار ٹہر جا

کچھ دیر کو خوش ہونے دے شیطان وقت کو
ہیں اور کتنی دیر یہ مکار ٹہر جا

جن کے لیئے بیکار ہے سب درس نصیحت
کر ان سے میری جان نہ تکرار ٹہر جا

اس پر بھی کوئی شاہراہ تعمیر کرے گا 
کچی ہے سڑک رستہ ہے دشوار ٹہر جا

تاریک گلی ہے بڑا خاموش مُحلّہ
گونجے گی کبھی اسمیں بھی چہکارٹہر جا

ہمراہ کوئی دوست بھی تو آج لیئے چل
بیشک ہیں تیرے ساتھ یہ اغیار ٹہر جا

جو سیکھنا چاہیں تو نمل انکو بہت ہے 
بدبخت کو ہر بات ہے بیکار ٹہر جا

گردل ہےسکوں میں نہیں کوئی بھی ملامت
آنکھوں  کو ملیں گے نئے انوار ٹہر  جا 

ممّتاز نہ امید کا دامن ابھی جھٹکو
تبدیلی کے لگتے ہیں کچھ آثار ٹہر جا 
●●●
کلام: ممتازملک 
مجموعہ کلام: 
میرے دل کا قلندر بولے 
اشاعت: 2014ء
●●●
100% LikesVS
0% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں