(25) عزت یہ زمانے میں/ شاعری۔ میرے دل کا قلندر بولے

(25) عزت یہ زمانے میں 

کب ہم کو میسر تھی عزت یہ زمانے میں
   مصروف تھے جینے کی اک رسم نبھانے میں 

 کوئ کہاں سنتا ہے کیا کس پہ گزرتی ہے  
 کچھ عمرگنوانےمیں کچھ زخم دکھانے میں 

    آئی یہ ندا ہمکو چپ چاپ چلے آؤ  
جو دل پہ گزرتی ہے وہ حال سنا جاؤ 

  جب آنکھ اٹھائی تو دیکھا کہ عجب عالم 
  تھی غرق وہاں دنیا احوال سنانے میں 

  چُپ چاپ تکے ہم تو خاموش رہے ہم تو 
  اپنا تھا بہت ہلکا اوروں کے سنے غم تو

   سر اپنا جھکے دیکھا تو عقل چلی آئی 
جنبش جو ہوئی لب کو لگ جاتی بتانے میں

  دل درد کا ساگر ہے  اور آنکھ کا پیالہ ہے
  ہر لمحہ بھرا اسکو ہر لمحہ نکالا ہے
 
 تھوڑی سی تشفی بھی شاید نہ اسےبھائی
   مصروف رہی دنیا ساگر کو سکھانےمیں  
●●●
کلام: ممتازملک 
مجموعہ کلام: 
میرے دل کا قلندر بولے 
اشاعت: 2014ء
    ●●●    
100% LikesVS
0% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں