(26) انسان اور انسانیت/ شاعری۔میرے دل کا قلندر بولے

(26) انسان اور انسانیت

انسانیت  ؛                                
 آزاد پرندوں کی طرح گھوم رہی ہوں 
   سرشار ہوں فطرت پہ اور جھوم رہی ہوں  

 پیسوں ک عوض کچھ نہیں بکتا ہے یہاں پر
   کردار کی جب ہی تو میں معصوم رہی ہوں 

 انسانیت ہے نام میرا تجھ کو پتہ کیا 
 دنیا میں تو اکثر ہی میں معدوم رہی ہوں 

انسان  ؛                                  
  درپردہ گناہوں کا ہے بازار سجایا  
   ہاں سامنے لوگوں کے میں مخدوم رہا ہوں  

 جس لمحہ تک نہ ظالموں کے ہاتھ کو روکا 
  اس لمحہ تک میں خود بڑا مظلوم رہا ہوں  

 مُمتاز میری روح میں ہلچل ہے یہ کیسی 
  شاید یہ اثر ہے کہ میں محکوم رہا ہوں  
●●●
کلام: ممتازملک 
مجموعہ کلام: 
میرے دل کا قلندر بولے 
اشاعت: 2014ء
●●●
100% LikesVS
0% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں