(29) غرور/ شاعری۔ میرے دل کا قلندر بولے

(29) غرور 

کس بات کا گھمنڈ ہے کس بات کا غرور
   کچھ فیصلے تو موقع پہ ہو جاتے ہیں ضرور 

  آپ اپنی فطرتوں میں تو چالاک ہے مگر
حکمت کی اک نظر سے بھی کوسوں ابھی ہے دُور

  مالک کا کرم تجھ پہ تجھے یہ تو چاہیئے  
 تیرا کرم کسی پہ تجھے یہ نہیں منظور  

  سجدوں کا رنگ دونوں جبینوں پہ ہے جدا 
  اک روشنی سے دُور ہے اک روشن و معمور

   پہلے جو احترام میں شامل کبھی رہے
 اب عیب پوشی کے لیئے ان سب کا ہے ظہور

   مُمتاز ہر برائی میں بااختیار ہیں  پر 
 اچھے عمل کے واسطے رہتے ہیں بے شعور  
●●●
کلام: ممتازملک 
مجموعہ کلام: 
میرے دل کا قلندر بولے 
اشاعت: 2014ء
●●●
100% LikesVS
0% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں