(34) ناسمجھ/ شاعری ۔ میرے دل کا قلندر بولے

(34) ناسمجھ 

ناسمجھ میں بھی ہوں اور تُو بھی سمجھ دار نہیں 
  وار کرتے  ہیں مگر ہاتھ میں تلوار نہیں

 چھوڑ کر رب کو کرے اپنی انا کی پوجا
    ایک تو شرک کریں اس پہ گناہ گارنہیں 

  اک قدم تُو جو چلے ایک قدم  میں آؤں 
   سوچ لے راستہ پھر کوئی بھی دشوار نہیں  

 دائرے کچھ تو میری ذات کے گرد ایسے ہیں  
  اور کچھ شوق کی شدت کا بھی اظہار نہیں  

  میری خواہش پہ کرے رقص جو انگاروں پر
  کیا وہی دل کا قلندر میرا دلدار نہیں  

  اسکو یاد آتا ہے کچھ دیر سے مقصد اکثر  
 سوچ مُمتاز یہ جلدی کہیں بیکار نہیں 
●●●
کلام: ممتازملک 
مجموعہ کلام: 
میرے دل کا قلندر بولے 
اشاعت: 2014ء
●●●
100% LikesVS
0% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں