(35) شکرانہ/ شاعری ۔میرے دل کا قلندر بولے

(35) شکرانہ

 میں نےدیکھاہےسوا تیرےمیرے حالوں پر 
   بات کرنے کو بھی کوئی یہاں تیار نہیں

  ہاں چمکتی ہیں یہاں دیکھ نیامیںسبکی 
 کب ہوا کوئی کسی کا بھی یہاں یار نہیں 

  لب کوسی کرجوچلا کرتے ہیں گھرکی جانب 
 گھر کے دروازے پہ ہوتی کوئی تکرار نہیں

  خوشبوئیں کیسے اس آنگن میں بسیرا کرلیں 
  جسکی دہلیز پہ آیا کوئی عطار نہیں 

  ہاتھ جیسے بھی دھرو درد کی شدت اتنی  
 اب اگر کاٹ بھی ڈالوگے تو انکار نہیں

   کم سے کم اتنا سکوں مجھ کو میسر تو ہے
  اپنے لفظوں میں میں کردار میں مکار نہیں

  احمقوں کی طرح جو ہاتھ بڑھا کر لی ہے
   میرے سر پر کبھی ایسی کوئی دستار نہیں 

  لوگ سونے کے لیئے رب سے دعائیں مانگیں 
  شکر ہے نیند میری مجھ سے یوں بیزار نہیں  

 خواہشوں کے لیئے سرپٹ جو مقابل آۓ 
 زندگی میں میری ایسی کوئی بھرمار نہیں  

 جسکا مقصد ہی نہ ہو بات وہ ہے لاحاصل 
  منتشر سوچوں کی ایسی کوئی یلغار نہیں 

  بات میں ایسا اثر ہو کہے سننے والا
  کوئی بھی بات ادھوری نہیں بیکار نہیں 

 میں تیرا شکر کروں جتنا بھی اتنا کم ہے 
 راستے میں میرے حائل کوئی دیوار نہیں 

    کوئی جھنجھٹ نہیں کہ جس پہ کلیجہ تڑپے 
  مجھ سے ممُتاز بھی ہوتے ہیں کیا جیدار نہیں  
●●●
کلام: ممتازملک 
مجموعہ کلام: 
میرے دل کا قلندر بولے 
اشاعت: 2014ء
●●●
100% LikesVS
0% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں