(42) ملک کی ہوا/ شاعری ۔ میرے دل کا قلندر بولے

(42) ملک کی ہوا 

کل اپنے ملک کی مجھ کو ملی ہوا  بولی 
  کہاں پہ جا کے بسے آج میرے ہمجولی

   میرے وقار کی خاطر کبھی نہ بکتے تھے  
 جو مانگنے کے لیۓ کھولتے نہیں جھولی 

  زمانے بھر کو محبت کے گیت سنواتے  
جنہوں نے آنکھ محبت کی گود میں کھولی  

 جنہوں نے آج جہنم مجھے بنایا ہے 
  میری فضاؤں میں کھیلی ہے خون کی ہولی 

   جو سب سے پہلے میرے پیار کی قسم کھا کر
  زمانے بھر میں پھرا کرتے تھے بنے گولی 

میرے وقار کا مُمتاز دربدر سودا
 دکان بیچنے کی مجھ کو آج جا کھولی 
●●●
کلام: ممتاز ملک
مجموعہ کلام:
میرے دل کا قلندر بولے
اشاعت: 2014ء
●●●
100% LikesVS
0% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں