امید روشن/ شاعری

امید روشن کلام:

ممتازملک.پیرس 


تجھ سے امید روشن ہماری رہے 

نہ کہ اب کہ برس بیقراری رہے 


نہ جدائی کسی کا مقدر بنے

 ایسی لہجوں میں اب انکساری رہے

اتنی مضبوط ہو حق کی آواز کہ

تیری میری نہ ہو  اب ہماری رہے 


نہ مصائب سے ڈرنا یہ طے ہو گیا

مشکلوں سے لڑائی یہ جاری رہے


سوچ کر دل پہ رکھنا ہے ایسا قدم

وار ہر اک عدو پر جو کاری رہے 


راگ کردار و گفتار کا چھیڑ کر 

وجد ممتاز روحوں پہ طاری رہے
●●●

100% LikesVS
0% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں