(52) کچھ رنج/ شاعری ۔ میرے دل کا قلندر بولے

(52) کچھ رنج 


کچھ  رنج بھی ہوتا ہے کچھ درد بھی ہوتا ہے  
جب چوٹ پڑے دل پر رنگ زرد بھی ہوتا ہے

   کچھ نرم سے گدوں پر بے خواب ہی رہتے ہیں 
   کوئی یہاں پیڑوں کی چھاؤں میں بھی سوتا ہے  

 نفرت کی فصل کو جو پروان چڑھاتا ہے
   بدنام ہی ہوتا ہے جو بیج وہ بوتا ہے 

 پہلے تو بڑے شوق سے اک درد دیا اسنے
 پھر اشک ندامت سے ہر داغ کو دھوتا ہے

  جذبات کی آندھی میں برباد بھی کرتا ہے 
  طوفان اترنے پہ دامن کو بھگوتا ہے  

میں معاف اسے کر دوں یہ بات نئی کب ہے 
  اکثر یہ ہی ہوتا ہے اکثر یہ ہی ہوتا ہے

  مُمتاز گرہیں ہاتھ سے جلدی میں لگاتے ہیں
   دانتوں سے اسے کھولتے دل خون بھی روتا ہے
●●●
  کلام: مُمتاز ملک 
مجموعہ کلام:
میرے دل کا قلندر بولے
اشاعت: 2014ء
●●●
100% LikesVS
0% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں