(57) گلے کا ہار/ شاعری ۔ میرے دل کا قلندر بولے


(57) گلے کا ہار

یہ نہ ہو جو آج کہہ بیٹھے ہیں آپ 
  معاملے  یہ کل گلے کا ہار ہوں 

  جان کتنی بھی چھڑانا چاہیۓ
   جان  لینے کے لیئے تیار ہوں 

 کچھ وضاحت کام پھر نہ آسکے 
  محنتیں ساری یونہی بیکار ہوں

   آپ کے لفظوں میں اس دم ہیں حلال 
  آپ کی خاطر یہ کل مردار ہوں  

 یوں نہ بڑھ چڑھ کر تقاضا کیجیئے
 گر دینے والے آپکے دلدار ہوں 

 ظلم میں حد سے نہ باہر جایئے
 کل کہیں خود آپ  نہ سنگسار ہوں 

  ہمکو بھی مُمتاز گر سہنا پڑے 
 ہم بھی ان حالات سے دوچار ہوں

●●●
  کلام:مُمتاز ملک
مجموعہ کلام:
میرے دل کا قلندر بولے 
اشاعت: 2014ء
●●●
100% LikesVS
0% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں