(67) سچا ہی تو تنہا ہے/ شاعری ۔ میرے دل کا قلندر بولے

(67) 
سچا ہی تو تنہا ہے

سچا ہی تو تنہا ہے جھوٹے کے ہیں یار کئی 
پھر بھی اس سے ڈرتے ہیں کتنے ہیں لاچار بھئی

بے پیندے کے لوٹوں جیسا ان کا حال سدا رہتا ہے 
پھر بھی جون نہ بدلیں اپنی ذہنی ہیں بیمار کئی

جیسی ہیں بے وقت نمازیں ایسی ان کی توبہ ہے
راتوں کو بھی اٹھ اٹھ کر ہیں کتنے ٹکریں مار کئی

اک بات انہیں سمجھادے کوئی اک رستہ دکھلا دے کوئی
اک تنہا ہی ہے سچا ہے نہیں اسکے لیئے منجدھار بھئی

بس فرض ادا کرتے جاؤ یہ حکم ہے جسکا اسکے لیئے
ان لوگوں نے کیا دینا ہے ہر روز کریں تکرار نئی

یا بیٹھے گا یا بہہ جائیگا بس آگ کی لو کو کم کر دو
یہ جوش ابلتے شیر سا ہے نہ ان میں پھونکیں ماربھئی

  بدمست جوانی میں انکو کب ہوش ہے یہ ڈھل جائے گی                  
ممّتاز جو اچھی بات کرے یہ لے آئیں تلوار نئی    
       
      ●●●    
 کلام/مُمّتازملک 
مجموعہ کلام:
میرے دل کا قلندر بولے 
اشاعت: 2014ء
     ●●●      
100% LikesVS
0% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں