کہاں پہ حور اور کہاں ہی عورت/ نظم۔ سراب دنیا


 کہاں پہ حور اور 
       کہاں یہ عورت          
     
 
وہ جس کو چھو کر ہوا نہ گزری 
غموں کی کوئی گھٹا نہ گزری
نہ میلے ہاتھوں کی وہ پہنچ میں 
نہ گندی نظروں گناہ سے گزری

جمال اس کا کمال ٹہرا 
ادا میں اس کی قتال ٹہرا 
سبک خرامی ہے اس کی واللہ
کوئی نہ اس پر سوال ٹہرا


اسے کیا کس طرح مقابل
جو ایک عورت کا حال ٹہرا 

کہاں بھلا یہ دکھوں کی ماری 
غموں میں جکڑی ہوئی یہ ناری
ہر اک قدم پر نیا فسانہ 
ہر اک قدم سوچتی بیچاری

بچائے خود کو کدھر کدھر سے 
کسی کے ہاتھوں سے یا نظر سے 
بچائے جاں یا کہ روح اپنی
یا اپنی عزت کو جھاڑ گھر سے

ادھر مقابل تو آ ذرا تو 
مجِھے اے حور اصل بتا تو 
کبھی ہے کاٹا کوئی بھی فاقہ
کبھی جنا تو نے کوئی بچہ
کبھی دریدہ بدن ہوئی ہے 
کبھی تو سردی میں جا کے سوئی 
کبھی تو کھا کھا کے مار روئی
کبھی اٹھائے ہیں زخم تو نے  
کبھی جو عزت کہیں گنوائی
کہیں پہ لگ کر قطار میں تو 
ملا نہ راشن تو موت آئی
تمہاری چوٹی پکڑ کے بولو
نکالا گھر سے کبھی کسی نے 
خلاف مرضی کبھی کسی نے
نکاح کے بدلے تمہیں رگیدا 
نہیں۔۔۔ نہیں نا
کبھی نہیں نا.... 

کبھی اتر کر زمیں پر آ تُو
جو مجھ پہ گزرے گزار پا تُو
میں مان لونگی مقام تیرا 
تجھے بھی پہنچے سلام میرا 
میرے مقابل نہ آ سکو گی 
مجھے یقیں ہے کہ میرے رب کو 
میرے ہر اک درد کی خبر ہے 
میرے مقابل وہ آئے گا جو 
میرے ہر اک غم کے ہو برابر
خدا ہے منصف وہی ہےعادل
 نہیں ہے ممتاز تو  مقابل
                           ●●●








100% LikesVS
0% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں