حضرت ولی قندھاری کی زیارت و چلہ گاہ کی حالت/ رپورٹ

حضرت ولی قندھاری کے چلہ گاہ (حسن ابدال ) کی زیارت اور انکے دربار میں حاضری کے لیئے مشکل اور خستہ حال سیڑھیوں سے گزر کر 250 سیڑھیوں کے بعد ہمت جواب دے گئی ۔
اوپر دیکھا تو ابھی 8 سو سے اوپر سیڑھیاں مزید منزل تک پہنچنے کے لیئے ہمارا منہ چڑا رہی تھیں ۔ نہ تو محکمہ اوقاف نے وہاں کوئی حفاظتی جنگلہ ، کوئی ریلنگ لگا رکھی ہے اور نہ وہاں کسی اور حفاظت کا بندوبست ہے ۔ اگر کوئی وہاں سے چکرا کر گرے تو یقینا اپنی ہڈیوں کا چورا بنوا کر شاید ہی زندہ بچے ۔ محکمہ اوقاف یہاں سے سالانہ کروڑوں روپے کماتا ہے اس سے یہاں راستہ بہتر اورمحفوظ بناتے ، یہاں برقی سیڑھیاں نصب کرتے ، چیئر لفٹ لگاتے تو یقین مانیں اسے بہترین سیاحتی مقام اور آمدنی کا ذریعہ بنایا جا سکتا ہے ۔ کیونکہ ہر انسان یہاں ہزاروں سیڑھیاں چڑھ کر پہاڑ کی چوٹی تک پہنچنے کی ہمت نہیں رکھتا ۔ حضرت ولی قندھاری ر ح کی چلہ گاہ گوردوارہ پنجہ صاحب کے سامنے ہی گلی میں واقع ہے جہاں زیارت کو باآسانی جایا جا سکتا ہے ۔ لیکن افسوس اس زیارت گاہ کہ حیثیت محکمہ اوقاف کی کھاو پیو پالیسی کے تحت محض ایک نمائشگاہ کی سی ہو کر رہ گئی ہے ۔ کیونکہ نہ تو یہاں کوئی وضو خانہ موجود ہے اورنہ ہی یہاں نماز کی ادائیگی کی کوئی جگہ ہے ۔ جبکہ اذان ہو رہی تھی ۔ تو مجبورا ہم نے نماز وہاں اپنی چادر بچھا کر چلہ گاہ کے سامنے ہی ادا کی ۔ صفائی کے معاملات یہاں پر صفر ہیں ۔ گلی محلے اور یہاں قائم ایک تالاب کی حیثت لوگوں کے غیر ذمہ دارانہ رویوں کی وجہ سے محض ایک نالی کی سی ہو کر رہ گئی ہے ۔ جسے دیکھ کر دلی افسوس ہوا ۔ محکمہ اوقاف کے ارباب و اختیار سے گزارش ہے کہ کھاتے ہیں تو کچھ لگانے کی بھی عادت ڈالیں۔اس سے آپکی عزت اورآمدنی دونوں میں اضافہ ہی ہوگا ۔ کمی نہیں ہو گی۔
●●●
(ممتازملک۔حسن ابدال)

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں