تباہی کا اگلا مرحلہ/ کالم

     تباہی کا اگلا مرحلہ
سو سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے بھارتی فلموں کے ذریعے بے راہ روی کو فروغ دینے اور مذہب کو بیوقعت کرنے کی عملی کوششوں کو ۔  جن میں ہر طبقے کی لڑکیوں کو اپنے گھروں سے بھاگنے کی تربیت دی گئی ۔ لڑکوں کو لڑکیوں کو ورغلانے کے نت نئے انداز سکھائے گئے۔  والدین کے فیصلوں کو بیوقوفی ثابت کرنے کا بیڑا اٹھایا گیا ۔ ناجائز رشتوں کو بڑھاوا دیا گیا ۔ بن بیاہی ناجائز اولادوں کو پیار کی نشانی قرار دیکر سارے بھارت ملک کی لڑکیوں کو بن بیاپی مائیں بنا دیا ۔ جہاں نکاح اور پھیروں کو غیر  ضروری قرار دیکر ان کی کھلی اڑائی گئی ۔ اس عذاب کو آج سارا بھارت بھگت رہا ہے۔ جہاں نہ حیا رہی نہ رشتے اور نہ ہی مذہب ۔ کسی کو اپنی ماں کا پتہ نہیں تو کوئی اپنے باپ کو ڈھونڈ رہا ہے ۔  اس پڑوسی کی گندگی کے چھینٹے ہمارے ملک پاکستان پر بھی خوب پڑے ۔ جہاں ناچ گانا دیکھنے کے شوق میں یہ سارے عیب ہماری عوام نے فیشن سمجھ کر اپنانے شروع کر دیئے۔چلیئے آج اب نئی مہم  کو ملاحظہ فرمائیں تو عورت و مرد کے کالے کاموں کے تحفظ کے بعد اب اس میں مذید جدت لائی گئی ہے۔ مرد کو مرد اور عورت کو عورت کی جانب جنسی  طور پر راغب کرنے کی بات اتنے پیرائے میں کی جاتی ہے کہ اسے آسانی سے پہنچ ہونے والا مزہ سمجھ کر بھارت میں متعارف کروایا گیا ۔جہاں اب اسے حق سمجھ کر اس پر قانون بھی بن چکا ہے ۔ یعنی جو برائی ختم نہیں  کی جا سکے ہر بزدل اورکمزور حکمران کی ریت ہے کہ اسے قانونی  سند قبولیت بخش دی جائے ۔ ہمیں فکر ہے ہمارے ملک پاکستان کی ۔۔۔جہاں  قوم لوط کا یہ کھیل آج  گلی گلی میں  کھیلا جا رہا ہے ۔ وہ کھیل جس کے عوض ایک پوری قوم کو نیست و نابود کر دیا گیا ۔ اللہ پاک نے جسے اپنے کلام پاک میں پوری وعید کے ساتھ سنا دیا ۔  حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کا واقعہ کسی بھی ایمان والے کی آنکھیں کھولنے اور دماغ روشن کرنے کے لیئے کافی ہے ۔ اللہ پاک نے انسان کو مردوعورت کے جوڑے سے پیدا فرمایا ۔ ازل سے ابد تک اللہ کا یہ قانون رہیگا ۔ لیکن اب عورت اور عورت مل کر خود پر سیاہی پوت رہی ہیں تو مرد اور مرد مل کر اللہ کی حدود کو پھلانگ رہا ہے ۔ گویا حالات یہاں تک پہنچ چکے ہیں کہ کوئی عورت بھی کسی عورت کیساتھ تنہائی میں وقت گزارے تو اس کے کردار پر بھی شک کیا جا سکتا ہے ۔ جبکہ مرد اور مرد ایکدوسرے کیساتھ زیادہ چپک رہا ہو تو اس کے کردار کی گندگی بھی محسوس ہونے لگتی ہے ۔ یہ سب کس جانب ہمیں لے جا رہا ہے۔ کیا اب مخلوق اپنے خالق کو چیلنج کرنے جا رہی ہے ۔ اسکی حدود اور احکامات کا مذاق اڑا کر وہ کون سی بلندی سر کرنے جا رہی ہے؟ حکومت پاکستان پر اگر ابھی ہم جنس پرستوں کا غلبہ نہیں ہوا تو خدا کے لیئے ایک مسلمان ملک میں اس ہم جنسیت کے کھیل کھیلنے والوں کو سرعام کڑی سزاوں سے نوازہ جائے۔ لیکن اس سے قبل سچے اور حقیقی علماء کرام کی خدمات حاصل کی جائیں جو مقامی ہوں اچھی شہرت رکھتے ہوں اور اللہ کے بھیجے ہوئے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے سچے دین اسلام کی تعلیم اس بھٹکی ہوئی قوم کو دے سکیں ۔ جو لوگوں کو  مسلک اور فرقوں کے عذاب میں مبتلا نہ کریں بلکہ اللہ کے احکامات کو کھول کھول کر بیان کریں ۔  اگر اس فتنے پر قابو نہ پایا گیا تو  ہماری دنیا و آخرت تہذیب و تمدن ہر شے کو یہ آگ کی طرح کھا جائیگا۔ اپنی اولادوں پر نظر رکھیئے اور جو بھٹک کر یا اس کام کو پیسہ کمانے کا آسان ذریعہ سمجھ کر اس گناہ میں مبتلا ہو رہے ہیں انہیں یاد دلائیں کہ ہمارا ہر پل ہمیں اس واپسی کی جانب بڑھا رہا ہے جہاں ہمیں اپنے ان سبھی اعمال کا جواب دینا ہے ۔ اور جہاں نہ کوئی سفارش کام آئے گی اور نہ کوئی رشتہ۔ اس لیئے اپنے اخلاق اور کردار پر توجہ دیں ۔ خود کو اللہ کے قریب کریں تاکہ وہ آپکو گناہوں اور عذابوں سے دور کر دے ۔ آمین                    ●●●

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں