تہذیبی مگرمچھ/ کالم

تہذیبی مگرمچھ
(تحریر: ممتازملک۔پیرس)

انگریزی کی آڑ میں ایک تو بائیس کروڑ عوام کو ان کے مذہب ثقافت اور اقدار سے دور کر دیا گیا دوسری جانب اردو زبان کو جو چند لوگ یا انکے بچے پڑھتے تھے ان کی زبان کو بھی تباہ کر دیا ۔ اس کا ایک کھلا ثبوت آپکو ہماری شاہراہوں پر لگے بورڈز یا پھر اشتہارات پڑھ کر سر پیٹ لینے کو جی چاہے گا ( اپنا نہیں غلط اردو لکھنے والے کا?) ہمارے بچے پنجابی تو چھوڑیں اردو ہماری اس وقت کی نام نہاد قومی زبان اردو میں سو تک کی گنتی بھی نہیں لکھنا تو دور بول تک نہیں سکتے ۔ ہمارے ہاں سرکاری سطح پر بڑے بڑے مگرمچھ براجمان ہیں جن کا کام ہر زمانے میں دین فروشی اور وطن فروشی رہا ہے ۔ جن کا قبلہ و کعبہ صرف اور پیسہ ہے ۔ اور بلاشبہ یہ غیرملکی ایجنڈے پر سالہا سال سے اس ملک کی جڑیں کھوکھلی کر رہے ہیں ۔ لیکن حیرت ہمیں اس بات پر ہوتی ہے کہ اس ملک کا عام آدمی بھی دن رات حرام حلال سوچے بنا ان مافیاز کے سسٹم کا ایندھن بنا ہوا ہے ۔ کیوں وہ اپنے بچوں کو گورنمٹ سکولز میں پڑھانے کے بجائے پرائیویٹ تہذیب فروش اور بے دین بے زبان اداروں میں پڑھانے کے لیئے مرا جا رہا ہے ؟ یقینا وہ اتنا ہی بڑا گناہگار ہے جتنا یہ تعلیم کے نام پر دھندا کرنے والے بڑے بڑے مگرمچھ ۔
تو اس کا علاج اور تدارک دونوں ہی اس عام آدمی کو خود ہی سے کرنا ہو گی ۔
ان بڑے بڑے نام والے چین سکولز کا بائیکاٹ ۔ یہاں سے فارغ التحصیل طلباء کو بڑے عہدوں پر قابض ہونے سے روکنا ۔ سرکاری سکولوں کے حالات کو بہتر کروانا ۔سرکاری تعلیمی اداروں میں کم تعلیم یافتہ اور للو پنجو افراد کا بطور استاد تعینانی کا راستہ روکنا ۔۔۔
اور بھی بہت کچھ
دنیا میں کسی بھی ترقی یافتہ قوم کی ترقی اس وقت تک ممکن نہیں تھی جب تک اس نے اپنے قومی زبان کو نہیں اپنایا یا اسے تعلیم نظام و نصاب میں رائج نہیں کیا ۔ دنیا بھر کی زبانیں سیکھیئے لیکن زبان سمجھ کر ۔ اسے اپنے ملک کے لیئے جونک مت بنایئے۔ انگریز کیساتھ انگریزی بھی ہمارے ملک میں اپنی روشی کو آگ لینے آئی تھی لیکن اس ملک اس گھر کے مکین بدبختوں نے اسے گھر والی ہی بنا لیا ۔ اسی جبری گھر والی نے اس گھر کی اصل مالکن اردو زبان کو تاخت و تاراج کرنے کی پہلے دن کی مہم کی آگ میں آج تک صرف گھی ہی ڈالا ہے کیونکہ گھر کے لوگ جو بےایمان تھے اور ہیں ۔
خدارا پاکستان پر رحم کیجیئے
اپنی آنے والی نئی نسل پر رحم کیجیئے۔ جنہیں ایسے انگریزی مارے تعلیمی اداروں سے گرل فرینڈ اور بوائے فرینڈ کی دیمک لگ چکی ہے ۔ کیونکہ زبان کبھی اکیلی نہیں آتی وہ جب آتی یے تو اپنے سارے سازوسامان کیساتھ ہی آتی ہے ۔ جیسے کہ اس کا پہناوا ، تہذیب ، اقدار ، رکھ رکھاو، اسکی سوچ اور طرز زندگی۔۔۔۔۔

●●●

100% LikesVS
0% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں