دھوکہ کھا بیٹھے ہو/ شاعری

تم اک اچھے قصہ گو ہو 
لوگوں سے بھی کم ملتے ہو 

کیسے دھوکہ کھا بیٹھے ہو
چودہ طبق جلا بیٹھے ہو

چہرے پر واضح لکھا ہے
دل کا درد دبا بیٹھے ہو

 اور تمہارے پاس بچا کیا 
سارے اشک بہا بیٹھے ہو

اپنوں سے یوں دور ہوئے کہ 
غیروں کے سنگ جا بیٹھے ہو

لٹنے کا کچھ خوف نہیں اب
جب سے مال لٹا بیٹھے ہو

اپنی جیب کے کھوٹے سکے
دنیا میں چلا بیٹھے ہو

وہ ہی تمہاری ہڈیاں  بیچیں 
جنکو ماس کھلا بیٹھے ہو

بہروں کی سنوائی کو تم
سارا زور لگا بیٹھے ہو

دیواریں ممتاز  ہلی  ہیں 
 قہر رب  بلوا بیٹھے ہو
 ●●●
100% LikesVS
0% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں