لاج / شاعری

لاج
کلام:(ممتازملک۔پیرس)


ہوش والوں نے کیا نیلام جسکو
ایک دیوانے نے اسکی لاج رکھ لی 

بیخودی تھی یا ندامت کیا خبر
کل جو رکھ پایا نہیں وہ آج رکھ لی
 
دوسروں کو بانٹ کے سارے تفاخر 
اپنے حصے کی خودی محتاج رکھ لی

دفن کی اس نے محبت دھوم سے اور
مسکرا کر اک عمارت تاج رکھ لی

شیر و  مکھن میں نہ تھا حصہ کوئی 
میری خاطر  ماں نے لیکن چھاج رکھ لی

چاک تھے جتنے گریباں سی لیئے ہیں 
اس طرح  سے صبر کی معراج رکھ لی

ہے محض ممتاز دھوکہ سوچ کا تو 
اک غلامی تھی بنام راج رکھ لی

       ●●●         
100% LikesVS
0% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں