بہاریوں کوسلام محبت❤/ کالم

بہاریوں کو سلام محبت

تحریر: (ممتازملک۔ پیرس)

16 دسمبر 1971ء 

خون آشام تاریخ ۔۔۔

کسی نے کیا ۔۔۔۔کسی نے بھگتا۔۔۔
سقوط ڈھاکا کے 50 سال مکمل ہوئے۔مکتی باہنی کی بھارتی سازشوں کی کامیابی کے 50 سالبنگلہ دیش میں اذیت ناک زندگی گزارنے پر مجبور لاکھوں بہاریوں کی پاکستان سے محبت کے جرم میں لازوال قربانیوں کے 50 سال سر کٹائے۔۔۔۔سولی چڑھے۔۔۔۔ عزتیں لٹوائیں ۔۔۔ کیڑوں مکوڑوں جیسی زندگی گزارنے پر مجبور کر دیئے گئے مگر نعرہ ایک ہی رہا۔۔۔۔۔پاکستان زندہ باددنیا بھر میں آباد بہاریوں کو سلام محبت❤پاکستان سے محبت کے معاملے  میں ہم آپ سے مقابلے میں صفر سے بھی نیچے کھڑے ہیں ۔ کاش اس محبت اور وفاداری کا ہزارواں حصہ بھی ہمیں نصیب ہو جاتا تو آج ہمارے نام نہاد کارٹون لیڈران ہماری غیرت و حمیت و معیشت سے فٹبال کبھی نہ کھیل رہے ہوتے ۔1971 ء میں بھارتی سازشوں نے اپنی زرخرید جماعت مکنی باہنی کے ذریعے دنیا کی تاریخ کا  سب سے غلیظ کھیل کھیلا ۔ پاک فوج کے خلاف بنگالیوں کو سالہا سال تک بھڑکایا گیا ۔ رہی سہی کسر مغربی موجودہ پاکستان کے سیاسی پتلی تماشا کرنے والوں کی بیوقوفیوں اور  خود سری نے پوری کر دی۔ بزدل اور عیاش جرنیلوں نے فوج کی ضروریات کے بجائے نئی ٹیکنالوجیز اور فن حرب پر توجہ مرکوز کرنے کے بجائے اپنے شراب و کباب عاشقیوں معشوقیوں پر ایسی توجہ دی کہ اس گھر پاکستان کا آدھا حصہ انکی شراب کے ریلے میں بہہ گیا اور گھنگھرووں کی چھنکار میں بنگالیوں کی مظلوم چیخیں دفن ہو گئیں ۔ ہائےےےےےے کیا ظلم ہوا ۔ جب نوے ہزار بہادر پاکستانی فوج نے اپنے جرنیلوں کی بےغیرتی اوربزدلی کی قیمت اپنے سر جھکا کر ہتھیار پھینک کر چکائی تھی۔ مکتی باہنی پاک فوج کی وردی میں مظلوم بنگالیوں کی عزتوں اور جانوں سے خون کی ہولی کھیلتی رہی اور گالی پاک فوج کے حصے میں لکھی گئی۔ بی بی سی ریڈیو کے جھوٹے پروپیگنڈوں نے ساری دنیا کی رائے کو پاکستان کے خلاف خوب ہموار کیا ۔ بھارت کی پشت پناہی کی۔ اس کے جنگی جرائم پر مکاری کے پردے ڈالے ۔ اور ان کے نمائندگان کانوں میں روئی ٹھونس کر جانے کیسے سو بھی جاتے تھے؟ کیسے نیند آ جاتی ہو گی انہیں اس بے ضمیری میں ؟ لیکن قدرت کا کھیل دیکھیئے  ہر سچ کو ایک دن بے نقاب ہونا ہی ہوتا ہے۔ سو آج  یہ سچائیاں جان کر ہی تو آج بھی وہ بنگالی پاکستان سے محبت کرتے ہیں ۔ اردو سے محبت کرتے ہیں ۔ ان کے گلے لگ کر سیاسی شعبدہ بازوں کے ضمیر کی موت کا پرسہ دیتے ہیں ۔ ایکدوسرے کی  ہر تکلیف پر یہ دونوں آج بھی دکھی ہوتے ہیں ۔ اور اس محبت کو انکے دلوں سے نہ مکتی باہنی نکال پائی۔ نہ  بنگلہ دیشی حکومتوں کی بھارتی ایجنڈے کی پاسبانی نکال پائی۔ دل سے ایک ہی  آواز  دونوں جانب سے ابھرتی رہی۔۔۔

ہم کہ ٹہرے اجنبی اتنی مداراتوں کے بعد

 پھر بنیں گے آشنا کتنی ملاقاتوں کے بعد

ہم چالیس لاکھ افغانیوں کو انکی تمام تر بے وفائیوں سمیت اپنی زمین پر پناہ دے سکتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ ہماری ہر حکومت نے 3 لاکھ بہاریوں کو پاکستان لا کر آباد کرنے کا وعدہ کبھی وفا نہیں کیا ۔ انکی لازوال محبت ہماری زمین پر اپنی جگہ نہیں پا سکی لیکن ہمارے دلوں میں ہمیشہ تڑپ جگاتی رہی ہے۔ اب بھی اگر انہیں پاکستان کی زمین نے قبول نہ کیا تو انکے بہت سے آباء جو منوں مٹی تلے جا سوئے انکی دوسری نسل بھی ان اذیتوں کا شکار ہو کر ہماری وفا پر  سوالیہ نشان  نہ لگا جائیں ۔     

         ●●●

100% LikesVS
0% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں