خفیہ طاقت/ کالم

               خفیہ طاقت   

      تحریر: 

        (ممتازملک ۔پیرس)

ہم وہ منافق لوگ ہیں جو بیرون ملک ہوں یا اندرون ملک اس بات پر تالیاں پیٹتے اور سر دھنتے ہیں کہ دیکھو دیکھو  ایک بس ڈرائیور کا بیٹا لندن کا میئر بن گیا ہے۔ترکھان کا بیٹا جرمنی کا صدر بن گیا ہے ۔ کل تک سڑک پر پانی کی بوتلیں بیچنے والا بچہ ترکی کا صدر بن گیا ہے ارے واہ واہ واہ ارے دیکھو تو کیسے ایک صفائی کرنے والا ایک ویٹر ایک نائی آ کر اپنے ہی مالک کیساتھ ایک ہی میز پر بیٹھ کر ایک سا کھانا کھا رہا ہے ۔۔دیکھا یہ ہوتی ہیں قومیں ۔۔۔یہ ہوتی ہے ترقی۔۔ اسے کہتے ہیں کامیابی کا فارمولا ۔بس ہو گئی آج کی خوراک پوری۔ آئیے یہی فارمولے لاگو کیجیئے ہمارے پا ر سا پاکستانی معاشرے پر ۔۔سنا آپ نے وہ کمیوں کا منڈا شہر سے کوئی بڑی ڈگری لیکر آیا ہے سنا آپ نے دھوبیوں کی بیٹی افسر لگ گئی ہے ارے دیکھو تو اب یہ کھسرا بھی پڑھ لکھ کر ڈاکٹر بن گیا ہےلو جی مستری کا پتر اب اسکول جائیگاارے کام والی کی بیٹی بھی سکول جانے لگی تو ہمارے جھاڑو پونچھے کون کریگا؟ہا ہائے مالش کرنے والی کی دائی کی بیٹی اب منسٹر لگ گئی ہےلو جی نائی بھی اب وزیر بن گیا ہے ۔ توبہ توبہ کیسا زمانہ آ گیا ہے ۔ کمی کمین اب ہمارے برابر بیٹھیں گے؟ دروازے پر فقیر کو روٹی دینے ہے تو اس کے ہاتھ برتنوں کو نہ لگیں پتہ نہیں کہاں کہاں کے جراثیم لیکر گھوم رہا ہو گا ۔بیٹا سکول میں خبردار جو اپنے سٹیٹس سے کم والے کیساتھ دوستی ووستی کی تو۔۔۔میرے پیارے وطن پاکستان میں تجھ سے بہت محبت کرتی ہوں اسی لیئے تیرے اندر پڑنے والے یہ کیڑے چن چن کر تجھ میں سے نکالتی رہتی ہوں ۔ یہ خطرناک اور زہریلے کیڑے مجھے کئی بار کاٹ بھی لیتے ہیں لیکن میں بھی بڑی ڈھیٹ ہوں ۔ لمحے بھر کو رکتی ہوں سسسکتی ہوں اور پھر اسی کام میں لگ جاتی ہوں ۔ کیونکہ میں تالیاں پیٹ پیٹ کر دوسروں کے رویوں پر عش عش کرنے کی بجائے یہ سب اسلامی اور انسانی حقوق 22 کروڑ پاکستانی عوام کو بلا تفریق و تخصیص انہیں دلوانا چاہتی ہوں ۔ لیکن اس میں رکاوٹ کیا پے ؟ کون ہے؟ تو افسوس اس میں رکاوٹ کوئی دشمن قوت نہیں ہے ۔کوئی بیرونی ہاتھ نہیں ہے ۔ بلکہ اس میں ہاتھ ہے ہماری اس گھٹیا سوچ کا، اس بازاری زبان کا اور گندے ذہن کا جو ہمیں قوموں کی فہرست میں نچلے ترین درجات پر فائز کر دیتے ہیں ۔ ہم 22 کروڑ لوگوں کا ریوڑ جب انسان بن کر سوچنے لگے گا تب ہم اوپر کے درجات میں قدم رکھ پائیں گے۔اوپر کے درجات میں کوئی خلائی مخلوقات کے ممالک اور معاشرے نہیں ہیں یہ بھی ہم جیسے عام سے دو ہاتھ دو پاؤں دو آنکھیں دو کان ایک ناک اور ایک منہ رکھنے والے ہی انسان نامی مخلوق ہیں۔  یہ بھی یہی گندم یہی سبزی یہی اناج کھاتے ہیں ۔ تو فرق کیا ہے ۔ فرق ہے انکی سوچ کا ۔ان کے مقاصد کا ۔ انکے ذہنوں کے معیار کا ۔  جو ایک انسان کی طرح کام کرتے ہیں ۔ جنکا ایمان ہے کہ ہر سہولت سب کے لیئے ۔ ہر  موقع ہر ایک کے لیئے ۔ شرط ہے صرف اور صرف قابلیت میرٹ۔بالکل اسی طرح جس طرح ہمارا رب فرماتا ہے کہ تم میں سے کسی کالے کو گورے پر اور کسی گورے کو کالے پر کوئی فوقیت حاصل نہیں ہے ۔ تم میں سے کوئی افضل ہے تو صرف اپنے توکل کی وجہ سے ۔ اور یہ توکل کیا ہے ؟ توکل ہے خدا سے ڈر کر اور محتاط روپوں کیساتھ زندگی گزارنا۔ جس میں نہ کسی کا حق مارا جائے اور نہ ہی کسی کو خود سے کمتر سمجھا جائے۔ جبکہ اس حساب سے تو ہم ایمان کی سیڑھی سے بھی نیچے اتر گئے۔ کیونکہ ہم نے کسی کو کمتر نہ جانا تو ہمارے حلق سے نوالہ کیسے نیچے اترے گا۔ اور اس حساب سے  ہم تو ابھی انسان بننے کی شرائط پر ہی پورا نہیں اترتے ۔  بھلا ریوڑ کو ایسی باتوں سے کیا لینا دینا۔ لیکن اگر اسے انسانوں کی کامیابیاں دیکھنے کا شوق ہے تو اسے بھی انسان بننا پڑیگا ۔ اب یہ اس 22 کروڑ  افراد پر مشتمل ریوڑ کے ہر فرد پر منحصر ہے کہ وہ خود صرف اپنی سوچ کب بدلے گا۔ جب یہ بدلے کا تب پاکستان بدلے گا ۔ جب  اس کی سوچ پر سے منافقت کا جال یہ خود توڑے گا تو پاکستان آذاد ہو جائے گا ۔ پاکستان زندہ باد           

               ●●● 

100% LikesVS
0% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں