ہتھیار اٹھایا میں نے/ شاعری

ہتھیار اٹھایا میں نے
کلام:
(ممتازملک ۔پیرس)

چوڑیاں چھوڑ کے ہتھیار اٹھایا میں نے
 نہ سمجھ تو اسے بیکار اٹھایا میں نے

بندشیں جتنی لگائی تھیں کڑے پہرے تھے
حشر تو پھر بھی ہے سرکار اٹھایا میں نے

اب ہے  امید بہت دور تلک جائیگا
جو قدم لگتا تھا دشوار اٹھایا میں نے 

مجھ سے خاموش کو حیرت سے تکا ہے اس نے
جب کوئی موضوع تکرار اٹھایا میں نے 

اس میں شامل ہے لہو میرا تو ایسے نہ جتا 
جیسے بازار سے شاہکار اٹھایا میں نے 

یہ میرا حق ہے اسے اپنی نہ توہین سمجھ
تیرے رشتے سے جو انکار اٹھایا میں نے

اس نے منہ ڈھانپ کے جانے کو غنیمت جانا
حشر ایسا سر بازار اٹھایا میں نے 

کیا ہوا رات شبستانوں میں معلوم ہوا
آج جب صبح کا اخبار اٹھایا میں نے

اتنے سلگے ہوئے ارمان ہیں چاروں جانب 
آرووں کا اک انبار اٹھایا میں نے

مجھ پہ ممتاز ہوا ظلم وہ خاموش رہا
واسطے جس کے تھا سنسار اٹھایا میں نے 
               ●●●             
100% LikesVS
0% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں