نکل کر دیکھا/ شاعری

نکل کر دیکھا
کلام:
(ممتازملک ۔پیرس)


ہم نے جب خواب کے پہلو سے نکل کر دیکھا
زندہ رہنے کے لیئے سچ کو سنبھل کر دیکھا

ضبط تھا جس نے ہمیں ٹوٹنے جھکنے نہ دیا
اس نے الفاظ میں ہر زہر اگل کر دیکھا

بھوک مٹتی ہے فقط نان و جویں سے ورنہ
موت ہیں سارے جواہر جو  نگل کر دیکھا
 
درد کو چین نہ آنا تھا نہ آیا گرچہ
 ہم نے پہلو کو کئی بار بدل کر دیکھا

(پھول اصلی تھے مہک چھوڑ گئے  ہوں شاید 
اپنے ہاتھوں کو کئی بار مسل کر دیکھا)

کاش یہ خواب ہو اس آخری امید پہ تو
اس نے آنکھوں کو کئی بار مسل کر دیکھا 

کیوں تپش پاوں کی یہ سرد نہ ہونے پائی  
گو کہ مہندی کو کئی بار تھا مل کر دیکھا

صبح ہوتے ہی مقدر میں سیاہی ٹہری
رات بھر سارے چراغوں نے ہی جل کر دیکھا 

سارے حیلےجہاں دم توڑ گئے تھے ممتاز 
رب کو دیکھا ہے تو ازراہ توکل دیکھا 
●●●
50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں