بٹ گئی / اردو شاعری۔ سراب دنیا


 بٹ گئی
کلام:
(ممتازملک ۔ پیرس)

رونا ہے احترام کا سچ تو ہے یہ مگر
عزت بڑوں کی آج مکانوں میں بٹ گئی

بیٹی سبھی کی سانجھی ہوا کرتی تھی کبھی
غیرت گلی کی ساری دکانوں میں بٹ گئی

جس کا کبھی جوانوں میں چرچا تھا ہاں وہی
مردانگی بھی آج زنانوں میں بٹ گئی

قیمت بٹورے عقل کے والی چلے گئے
بےچینیوں کی بھینٹ دیوانوں میں بٹ گئی

 قربانیاں غریب کے حصے میں رہ گئیں 
دولت شہر کی ساری سیانوں میں بٹ گئی

ممتاز منصفوں کے نہ احوال پوچھیئے
انصاف کی دلیل بیانوں میں بٹ گئی    ●●● 

100% LikesVS
0% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں