محبت لفاظی نہیں عمل/ کالم


محبت لفاظی نہیں عمل 

تحریر: (ممتازملک ۔پیرس)


مجھے ماوں کیساتھ ہونے والی زیادتیوں پر اکثر مردوں سے سننا پڑتا ہے کہ  ایسی بات نہیں ھے ماں کے قدموں میں جنت ھے بدنصیب ھے وہ انسان جو اپنی ماں کی خدمت اور احترام نہ کرے۔ پوچھنا یہ ہے کہ کیا  صرف احترام سے ہی پیٹ بھر جاتا ہے ؟ بدن ڈھک جاتا ہے؟ دوا مل جاتی ہے؟یہ تو وہی بات ہوئی کہ کسی کے سامنے سات رنگ کے پکوان پروس دیئے جائیں لیکن اس کے ہاتھ اور منہ باندھ دیا جائے۔کس کام کے پھر یہ پکوان اس بھوکے کے لیئے؟جب بھی اپنی ماں اور اپنے بچوں کی ماں کے سر پر اس کے اپنے نام کی چھت کا مطالبہ کیا جائے تو کمال کا جان چھڑاو جواب ملتا ہے ہمیشہ کہ جناب سب کچھ اسی کے لیئے تو ہے ۔ جبکہ سوال وہیں قائم رہتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں کتنے فیصد اپنی بیویاں یا اپنی مائیں ایسی ہیں جن کے سر پر ان کے اپنے نام کی چھت ہے؟ کچھ نے کہا کہ  گھر اسے ہمارے باپ نے دے دیا تھا ۔ سوال پھر وہیں کا وہیں ہے کہ اپنے نام سے اس بیچاری کو کیا ملا؟ تمام عمر کی قربانیوں کے بدلے کبھی باپ کا گھر پھر میاں کا گھر پھر بیٹے کا گھر ۔ وہ تو  ہمیشہ غیر محفوظ اور خالی ہاتھ  ہی رہی۔  سچ تو یہ ہے کہ محبت لفاظی نہیں عمل کی متقاضی ہے۔ سو جس ماں کے قدموں میں آپکی جنت ہے۔ اس کے سر پر اس کے  اپنے نام کی محفوظ چھت کیوں نہیں ہو سکتی؟پھر مجھے (نہ جانے کیا سمجھ کر) پاکستان میں عورت اور خصوصا ماں کے رتبے پر بلند و بانگ دعوے سنائے جاتے ہیں ۔ اس کی عزت و وقار کے گن گائے جاتے ہیں ۔ تو عرض یہ  ہے کہ میں بھی اسی پاکستان سے آئی ہوں ۔ ہر کلاس کی عورت کو جانتی ہوں اور ان کی اس پرسنٹیج کو بھی ۔ جہاں بیٹیاں قران سے  بیاہنے والے جائیداد بچانے  کی فکر لیئے بیٹھے ہیں ۔ بھائی بہنوں کی جائیدادیں ہڑپ کر جاتے ہیں۔ باپ بھائی بیٹی کو جہیز دیکر اس کے حصے کی شرعی ملکیت دبا جاتا ہے۔ بیوہ بھابیوں کا مال ان کے دیور جیٹھ ملائی سمجھ کر کھا جاتے ہیں ۔ مائیں گھروں میں بچے پلوانے تک نوکروں جیسی حالت میں رکھی جاتی ہیں  ۔یہ ہے ہماری نوے فیصد اصلیت ۔اس سے نظر مت چرائیں پلیززز۔ مانیں گے مرض تو ہی علاج کر پائیں گے اسکا ۔۔والدین کا گھر صرف باپ ہی کے نام تھا نا۔ کتنے ہیں جن کی اپنی بیوی یا اپنی ماں کے نام کوئی گھر ہے؟ڈرامے بازی نہ کریں تو  حقیقت کی زمین پر بیچاری گود سے گور تک دوسرے کے گھروں میں در بدر ہی رہتی ہے یہ ہے سچ۔۔۔ایک بڑا اچھا نقطہ اٹھایا گیا کہ اگر ماں یا باپ کے نام کوئی گھر خرید کر دیا جائے تو باقی سارے مفت خورے بہن بھائی اسے وراثت بنا کر مفت کا حصہ بٹورنے کے لیئے عدالتوں اور قبضوں کے کھیل کھیلنے لگتے ہیں۔ جبکہ اس مکان کی خرید کسی ایک بہن یا بھائی کے پیسے سے ہوئی تھی۔  اس کے علاج کے لیئے پاکستان میں سرکاری طور پر بھی قانون میں  کچھ تبدیلی کی اشد ضرورت ہے ۔ جس کے تحت کسی بھی گھر کی یا کسی بھی جائیداد کی خرید کے وقت کاغذات میں ایک خانہ موجود ہونا چاہیئے جس میں لکھا جائے کہ یہ جائیداد کون اپنے پیسے سے خرید کر اپنے والد یا والدہ کے نام کر رہا ، رہی ہے ۔ اور ان کی وفات کے بعد یہ جائیداد خود بخود خرید کر دینے والے  نام پر منتقل ہو جائے۔ اس کا مضبوط انتظام قانونی کاغذات سے مکان تاعمر انکے نام ہو ۔ انکی وفات کی صورت یہ مکان خرید کر دینے والے کو واپس منتقل ہو جائے ۔ اور اگر وہ خریدنے والا نہیں رہا تو یہ جائیداد  اس کی بیوی یا شوہر کے نام ہو جائے ۔ اور اگر اس کی بیوی یا  شوہر بھی نہیں رہی، رہا (موت یا طلاق کی صورت) تو اس کی اولاد کے نام ہو جائے۔ ماں کے نام گھر ہو۔ وہ ساری زندگی بلا شرکت غیرے اپنی مرضی سے اسمیں رہے ۔ لیکن اگر وہ گھر اسکی کسی اولاد نے خرید کر دیا ہو تو وہ  گھر وہ کسی کو بھی نہ بیچ سکتی ہے نہ ہی کسی  کے نام کر سکتی ہے۔ اس کی وفات کے بعد یہ گھر جس نے خرید کر دیا اسی کی ملکیت میں واپس چلا جائے گا۔  خودمختاری یہ ہو گی کہ وہ اگر میرے خرید کر دیئے ہوئے گھر میں مجھے بھی نہ آنے دینا چاہے تو مجھے اس کی اس بات کا بھی احترام کرنا ہے ۔ زبردستی اس کی زندگی میں اس گھر میں گھسنے کہ کوشش نہیں کرنی ہے۔ وہ اس کے کسی حصے میں کرایہ دار بھی ساتھ رکھنا چاہے تو رکھ سکتی ہے ۔ اس کی آمدن کو اپنے لیئے استعمال کر سکتی ہے۔ میں امید کرتی ہوں کہ یہ تحریر صاحب اختیار لوگوں تک ضرور پہنچے گی اور وہ اس پر قانون میں تھوڑا بہت ردوبدل کرتے ہوئے عوام کو آسانی مہیا کرنے میں اپنا کردار ادا کرینگے۔ اس وقت تک جائیداد ماں کے نام کرنے والے خود قانونی کاغذات بناتے وقت یہ ضروری شق شامل کروا کر اپنی جائیداد کو محفوظ بنا سکتے ہیں اور عدالتوں میں فاضل مقدمات بننے کی راہ کو روک سکتے ہیں ۔                   ●●●

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں