بھارتی فلموں کے نان سینس اسباق ۔ کالم


بھارتی فلموں کے نان سینس اسباق

تحریر: (ممتازملک ۔پیرس)

 بھارتی فلموں نے دنیا میں آخر کیا سکھایا؟ 99 فیصد بھارتی فلموں نے دنیا میں بے حیائی اور برائی کے سوا کس چیز کو فروغ دیا ؟ آپ دیکھتے رہیں، ہر فلم کے اندر آپ کا کسی کے ساتھ بھی سو جانا کوئی برائی نہیں ہے۔ ناجائز تعلقات بناؤ۔ ناجائز بچوں کو پیار کی نشانیاں کہہ کر انہیں عام کرو۔ کوئی عیب نہیں۔ کہیں بھی چمی پپی کر لو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کسی بھی رشتے کے ساتھ سو جاؤ، کوئی فرق نہیں پڑتا۔ دوسرا اخلاق و اقدار کا جنازہ بڑے دھوم دھام سے اٹھایا جاتا ہے۔ شادی کے منڈپوں سٹیج سے لڑکیوں کو بھاگ جانے کی ترغیب کھلے عام دی جاتی ہے اور اسے مذاق میں اور ٹن ٹن ٹن ٹن کے میوزک کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ جیسے یہ بہت بڑا لطیفہ، بہت بڑا کارنامہ اس لڑکی نے سر انجام دیا اور وہ بھگانے والا ہیرو واہ کتنا بہادر ہے، کسی کی بیٹی منڈپ سے اٹھا لایا اور اپنی بہن بھی منڈپ سے بھاگنے پہ خوش ہو کے دیکھتا ہے، ارے واہ کیا کمال کیا۔ کتنی جرات مند ہے ہماری بہن ۔۔۔واہ واہ واہ ۔ حیرت ہوتی ہے ایسی فلمیں دیکھ کر۔ آپ کس معاشرے کی نشاندہی کر رہے ہیں؟ آپ کیا سکھانا چاہتے ہیں؟ اپ کا معاشرہ کیا کارٹون کا معاشرہ ہے؟ کیا یہاں انسان نہیں رہتے؟ کیا ان کی ایموشنز کارٹون والے ایموشنز ہیں؟ یعنی ایموشن لیس ہیں وہ سارے۔ جذبات سے عاری ہیں وہ سب لوگ کہ آپ انہیں بتاتے ہو منڈپوں سے بھاگ جاؤ ۔ شادی کا سہرہ بندھا ہے۔ دولہا کا گھوڑا بھاگ گیا جناب ہاہاہا۔۔۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ ہر انسان کے ساتھ اس کا خاندان جڑا ہوا ہوتا ہے۔ اس کے بہن بھائیوں پہ اثر انداز ہوتی ہیں اس کی ہر حرکتیں، اور اس کی ہر طرح کی سوچیں ۔ صرف ایک منٹ کے لیے اگر سوچا جائے کہ وہ لڑکیاں جو آپ کی فلموں کی ہیروئنوں کی نقل میں( آپ کی ہیروئن تو پیسے لے کر چار منٹ کے لیے بھاگ رہی ہے نا وہاں سے, لیکن آپ یہ سوچیں کہ وہ لڑکی جو اس ہیروئن کی تقلید میں) اپنے گھر سے اپنے منڈپ سے اپنے رشتوں سے بھاگ گئی, پھر اس کے بعد کیا ہوا ؟ اس کے بعد جس کے ساتھ بھاگی کیا اس نے اسے عزت دی؟ اگر آپ کی فلموں میں دی تو اس سے بڑی ب**** اور کوئی نہیں ہو سکتی ساری عمر وہ لڑکا حقیقت کی زندگی میں نہ تو اس لڑکی پہ اعتبار کرتا ہے نہ اس کو اپنی اولاد کے لیے قابل اعتبار سمجھتا ہے۔ نہ اس کی عزت کرتا ہے جب جی چاہتا ہے زبان یا عمل سے وہ اس کو گھونٹ کے رکھ دے گا کیونکہ تم میرے ساتھ بھاگی تو کسی کے ساتھ بھی بھاگ سکتی ہو۔ یہ ہوا انجام اس بھاگنے والی لڑکی کا۔ اب اس لڑکی یا لڑکے کے گھر والوں پہ نظر ڈالیں۔ کیا ان  کے گھر میں جو باقی بہنیں ہیں، بھائی ہیں انہیں معاشرے میں عزت مل پائے گی؟ ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں اس معاشرے کے اندر ان کے لیئے کوئی رشتہ آئے گا یا انہیں کوئی عزت سے بیاہ کر لے کر جائے گا کیا وہ لڑکیاں بغیر طعنہ سنے اپنے گھروں میں چاہے سسرال میں چاہے اکیلی زندگی بھی گزارے تو اپنے شوہر سے کبھی ان کا طعنہ سنے بغیر زندگی گزار سکیں گی؟ کبھی نہیں ناممکن . اس لڑکی کے بھائی کو کس نظر سے دیکھا جاتا ہے؟ اسے کس نام سے پکارا جاتا ہے ؟ مرتے دم تک وہ لڑکا کیا عزت کے ساتھ سر اٹھا کے جی سکتا ہے؟ دوسری طرف اس لڑکے کے گھر والوں کی خبر لیں کہ جو بڑا ہیرو بن کر کسی کی بیٹی بھگا کر لایا . کیا اس کی بہنوں کے لیے کوئی اچھا رشتہ آئے گا؟ اسے کوئی بیاہ کے لے کے جائے گا؟ کوئی سوچے گا کہ ان کا بھائی ہے. چاہے وہ کتنی بھی پڑھی لکھی ہوں .شریف ہوں. ہنر مند ہوں. لیکن یہ ہمیشہ سوچا جائے گا کہ کل کو وہ لڑکا ان کا بھائی ہے ۔جس نے کسی کی بیٹی بھگائی۔ اسے ہم اپنے گھر میں اپنی بہنوں سے ملنے کے بہانے کبھی آنے دیں گے؟ کیا ہم اسے اپنے گھر کی عورتوں کے ساتھ کبھی بٹھانا پسند کر سکتے ہیں یا ہم بے فکری سے اسے اجازت دے سکتے ہیں کہ وہ اپنی بہن سے ملنے کے لیئے آئے؟ نہیں کبھی نہیں. اس کے بھائی کے لیے رشتے عزت والے گھروں سے مل سکیں گے ؟ لوگ کہیں گے ان کا ایک بھائی تو بھگا کے لایا پتہ نہیں یہ بھی کہاں کہاں لڑکیاں ورغلاتا ہوگا۔ یہ ہے سچ یہ ہے اصل آئینہ جو بھارتی فلم نے اور ڈراموں میں بھی ہمیشہ چھپایا گیا ۔ خواب دکھاتے ہیں۔  وہ خواب جو کبھی پورے نہیں ہوتے۔ وہ خواب جو کبھی ممکن ہی نہیں ہوتے۔ بالکل اسی طرح جیسے کسی چڑیا اور کبوتر کو اڑتے ہوئے دیکھوں اور کھڑکی سے میں بھی آرزو کروں ارے میں بھی تو اڑ سکتی ہوں اور میں دونوں ہاتھ کھول کر چھلانگ لگا دوں اور ہوا میں اڑنے کی بجائے اس کا انجام کیا ہوگا زمین پر اوندھے منہ پڑا ہوا لاشہ۔۔۔۔ یہ ہوتی ہے سچ کی موت۔ حقیقت کے خواب کے سامنے سچ کی موت بہت بڑی حقیقت۔ یہی فرق ہے بھارتی فلموں میں اور حقیقت کی زندگی میں کبھی کبھی خواب دیکھنا اچھی بات ہے، لیکن خواب کو خواب کی طرح دکھائیں۔ حقیقت کی زندگی کی جدوجہد کی ہمیشہ تعریف کی جاتی ہے۔ بھارتی فلم میں جب بھی کبھی حقیقت پسندانہ موضوعات پر مبنی پیش کی گئی اسے بہت سراہا گیا جیسے ” تمنا ” یا “تارے زمین پر” یہ وہ فلمیں تھی جس کو حقیقت میں تسلیم کیا گیا اور اسی طرح بہت ساری ایسے موضوعات پہ جو فلمیں بنی انہیں  بہت زیادہ سراہا گیا ، لیکن جب آپ خواب کے نام پر اس میں ننگا پن لے آتے ہیں۔ اس میں ایک دوسرے کے ساتھ چمن پپن کو غیر ضروری طور پر شامل کر کے ضروری بھی ہو تو ہر کسی کو پتہ ہے کہ کس نے کہاں کس کو ، کس طرح سے استعمال کرنا ہے، بیوی کیسے ہوتی ہے اور باقی رشتے کیسے ہوتے ہیں ہر کوئی جانتا ہے آپ ان کو اپنی فلم کے ذریعے کیا سکھانا چاہتے ہیں۔ لوگوں کے بیڈ روم میں گھس کر آپ ان کو کیا سکھانا چاہتے ہیں کیا بیڈ روم کی اندر صرف ننگ دھڑنگ اور یہی سب کچھ ہوتا ہے۔ اچھے طریقے سے اچھے لفظوں میں آپ کو کوئی بھی ماحول فلمانا نہیں آتا۔ جہاں ایک عورت اور ایک مرد ہوں گے ہمیں ہمیشہ اپنے ریموٹ پہ کنٹرول رکھنا ہوتا ہے کہ جناب اب یہ کہیں بھی کچھ بھی دکھائیں گے، تو اس کو ہٹا دو اور اگر نہیں ہٹایا تو پھر تیار رہیے آفٹر ایفکٹس کے لیئے ۔

                ——–

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں