فروغ ادب اسلام آباد کی پہلی آن لائن اردو کانفرنس/ رپورٹ

رپورٹ: (ممتازملک.پیرس)

ادارہ فروغ ادب کے تحت اسلام آباد میں  12 ، 13 ، اور 14 اگست 2020ء کو  پہلی آن لائن سہہ روزہ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا ۔ جس میں پاکستان بھر سے اور بیرون ملک سے بھی چنیدہ شرکاء کو مدعو کیا گیا ۔ اس کانفرنس کا مقصد اردو زبان کے  ارتقائی سفر اور اس کی ترویج و ترقی پر روشنی ڈالنا تھا ۔ اس پروگرام کی نظامت کے فرائض محترمہ سمدیہ کمال نے نہایت  خوبصورتی سے ادا کیئے ۔ کانفرنس کے پہلے روز کے تیسرے سیشن میں راقمہ کو بھی اظہار خیال کا موقع عنایت کیا گیا ۔ جس کا ہم نے بھرپور استفادہ کرنے کی سعی کی ۔۔اس روز ہمارے علاوہ جو اہم شخصیات اظہار خیال کو شامل تھیں ان میں ڈاکٹر احسان اکبر، جناب اسلم کمال ، ڈاکٹر فاطمہ حسن  ، جناب یوسف شاہین ، ڈاکٹر اختر شمار ، ڈاکٹر عزیز ابن الحسن، محترمہ ممتازملک ، جناب خالد یوسفی ، ڈاکٹر محمد منیر سلیچ ، ڈاکٹر وحیدہ رحمن ، محترمہ بشری فرغ ، ڈاکٹر عبدالستار شامل تھے ۔ اہم نکات  جن پر زور دیا گیا ان کا لب لباب یہ ہی تھا  کہ اردو زبان کو پاکستان میں ہر سطح پر تعلیم اور دفتری زبان کا درجہ دیا جائے ۔ تاکہ طلباء املاء اور گرائمر کی رٹا بازی کے بجائے اپنی قومی زبان میں حقیقی علم حاصل کر سکیں ۔ اردو کے  متروک الفاظ کے بجائے عام فہم اور روز مرہ کے الفاظ کو نصاب  کا حصہ بنایا جائے ۔ تاکہ اس  میں طلباء کی دلچسپی کو بڑھایا جا سکے ۔۔بیرون ملک سفراء کو تربیت دی جائے کہ وہ وہاں کی حکومتوں سے اردو زبان کو بطور اختیاری زبان وہاں کے سکول کالجز اور یونیوسٹیز میں شامل کروائیں ۔ چھوٹے چھوٹے وظائف دیکر مقامی لوگوں کو  اردو کورسز کروائے جائیں ۔ وقتا فوقتا دوسرے ممالک کے لیئے اپنے ڈرامے اور فلمیں اردو زبان میں ڈبنگ کیساتھ بھجوائے جائیں ۔ تاکہ وہاں کی عوام ہماری زبان کو ہمارے اصل لہجے اور نام کیساتھ سن کر اس سئ آشنا ہو سکے۔ وگرنہ اردو کی جو پرورش اور خدمت ہم پاکستانیوں کو کرنی چاہیئے تھی سچائی تو یہ یے کہ وہ عزت اور خدمت اس کی بھارت نے کی ہے ۔ چاہتے نہ  چاہتے ہوئے دنیا کے کونے کونے میں بھارت نے اردو زبان کو اپنی فلموں کے ذریعے پہنچایا ہے ۔ اب چاہے وہ اسے ہندی کہہ کر بیچیں لیکن سچ یہی ہے کہ دنیا میں جہاں بھی اسوقت اردو بولی اور سمجھی جاتی ہے اس کا سہرا بھارتی فلموں کو ہی جاتا یے ۔ اب ضرورت ہے اس کے رسم الخط کو بچانے کی ۔ کیونکہ رومن اور ہندی رسم الخط اسے نقصان پہنچانے کے لیئے پوری قوت سے میدان میں ہیں ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اردو بولنے والے ان  لوگوں کو اس بات پر مائل کیا جائے کہ جو اچھی بھلی اردو پڑھنا لکھنا جانتے ہیں لیکن اس کے باوجود انگریزی حروف تہجی میں رومن میں اسے لکھتے ہیں ۔ ان کے اندر سے اپنے رسم الخط کے بارے میں کوئی بھی ہچکچاہٹ یا احساس کمتری یے تو اسے دور کیا جائے ۔  اور اس کا آغاز ہمیں اپنے ملک پاکستان سے کرنا ہو گا جہاں کی یہ قومی زبان ہے ۔ ہماری دفتری کاروائی اور ملک بھر کا ایک جیسا نصاب تعلیم ہماری اپنی قومی زبان اردو میں رائج کرنے کی جتنی اشد ضرورت آج ہے اسے محسوس نہ کیا گیا تو دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی ترقی کی کہانیاں بس ہماری نسلوں کے لیئے انگریزی کی گرامر کتاب اور املا کی غلطیوں اور اصلاح ہی میں قابل تقلید ملا کرینگے ۔ اس پہلی آن لائن اردو کانفرنس میں بہت سے مفید  مشورے اور آراء اردو کی ترقی اور بڑہوتری کے کیئے پیش کیئے گئے ۔ اب حکومت وقت کا کام ہے کہ وہ آگے بڑھے اور  اپنے حصے کی قومی زبان کو رائج کرنے کی ذمہ داری کو پورا کریں ۔ اس قسم کی کانفرس کا انعقاد بجا طور پر خوش آئندہ اور قابل داد  ہے ۔                         ۔۔۔۔۔

100% LikesVS
0% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں